الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
6. الصراط وشفاعة الأنبياء والمؤمنين وتحتن الله عز وجل برحمته على عباده الموحدين
پل صراط،انبیاء اور اہل ایمان کی شفاعت اور اللہ تعالیٰ کے اپنے موحد بندوں پر مہربانی کرنے کا بیان
حدیث نمبر: 13181
وَعَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ ”يُوضَعُ الصِّرَاطُ بَيْنَ ظَهْرَيْ جَهَنَّمَ عَلَيْهِ حَسَكٌ كَحَسَكِ السَّعْدَانِ ثُمَّ يَسْتَجِيزُ النَّاسُ فَنَاجٍ مُسَلَّمٌ وَمَجْرُوحٌ بِهِ ثُمَّ نَاجٍ وَمُحْتَبَسٌ بِهِ مَنْكُوسٌ فِيهَا فَإِذَا فَرَغَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ مِنَ الْقَضَاءِ بَيْنَ الْعِبَادِ يَفْقِدُ الْمُؤْمِنُونَ رِجَالًا كَانُوا مَعَهُمْ فِي الدُّنْيَا يُصَلُّونَ بِصَلَاتِهِمْ وَيُزَكُّونَ بِزَكَاتِهِمْ وَيَصُومُونَ صِيَامَهُمْ وَيَحُجُّونَ حَجَّهُمْ وَيَغْزُونَ غَزْوَهُمْ فَيَقُولُونَ أَيْ رَبَّنَا عِبَادٌ مِنْ عِبَادِكَ كَانُوا مَعَنَا فِي الدُّنْيَا يُصَلُّونَ صَلَاتَنَا وَيُزَكُّونَ زَكَاتَنَا وَيَصُومُونَ صِيَامَنَا وَيَحُجُّونَ حَجَّنَا وَيَغْزُونَ غَزْوَنَا لَا نَرَاهُمْ فَيَقُولُ اذْهَبُوا إِلَى النَّارِ فَمَنْ وَجَدْتُمْ فِيهَا مِنْهُمْ فَأَخْرِجُوهُ قَالَ فَيَجِدُونَهُمْ قَدْ أَخَذَتْهُمُ النَّارُ عَلَى قَدْرِ أَعْمَالِهِمْ فَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى قَدَمَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى نِصْفِ سَاقَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى رُكْبَتَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَزَرَتْهُ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى ثَدْيَيْهِ وَمِنْهُمْ مَنْ أَخَذَتْهُ إِلَى عُنُقِهِ وَلَمْ تَغْشَ الْوُجُوهَ فَيَسْتَخْرِجُونَهُمْ مِنْهَا فَيُطْرَحُونَ فِي مَاءِ الْحَيَاةِ“ قِيلَ يَا رَسُولَ اللَّهِ وَمَا الْحَيَاةُ قَالَ ”غُسْلُ أَهْلِ الْجَنَّةِ فَيَنْبُتُونَ نَبَاتَ الزَّرْعَةِ وَقَالَ مَرَّةً فِيهِ كَمَا تَنْبُتُ الزَّرْعَةُ فِي غُثَاءِ السَّيْلِ ثُمَّ يَشْفَعُ الْأَنْبِيَاءُ فِي كُلِّ مَنْ كَانَ يَشْهَدُ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ مُخْلِصًا فَيُخْرِجُونَهُمْ مِنْهَا قَالَ ثُمَّ يَتَحَنَّنُ اللَّهُ بِرَحْمَتِهِ عَلَى مَنْ فِيهَا فَمَا يَتْرُكُ فِيهَا عَبْدًا فِي قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ إِيمَانٍ إِلَّا أَخْرَجَهُ مِنْهَا“
سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جہنم پر پل صراط رکھا جائے گا اور اس کے اوپر خاردار پودے سعد ان کے کانٹوں کی طرح کانٹے لگے ہوں گے، پھر اس کے اوپر سے لوگ گزریں گے، کچھ لوگ تو صحیح سالم اس کو پار کر کے نجات پا جائیں گے اور بعض اس کے اوپر سے گرتے پڑتے گزر کر نجات پا جائیں گے اور بعض کو اس کے اوپر روک کر ان کو اوندھے منہ جہنم میں گرا دیا جائے گا، جب اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کے درمیان فیصلوں سے فارغ ہوگا تو اہل ایمان بعض ایسے لوگوں کو نہیں دیکھ پائیں گے، جو دنیا میں ان کے ساتھ نماز ادا کرتے، زکوٰۃ دیتے، روزے رکھتے، حج کرتے اور جہاد کرتے تھے، اس لیے وہ کہیں گے: اے ہمارے رب! تیرے وہ بندے جو دنیا میں ہمارے ساتھ نماز پڑھتے، ہمارے ساتھ زکوٰۃ ادا کرتے، روزے رکھتے، ہمارے ساتھ حج ادا کرتے اور ہمارے ساتھ جہاد کرتے تھے، وہ ہمیں دکھائی نہیں دے رہے۔ اللہ تعالیٰ فرمائے گا: جہنم میں جا کر دیکھو، تمہیں ان میں سے جو آدمی وہاں نظر آئے اسے باہر لے آؤ، چنانچہ وہ لوگ ان کو جہنم میں پائیں گے، جبکہ آگ ان کو ان کے اعمال کے حساب سے جلا چکی ہوگی،کوئی قدموں تک، کوئی نصف پنڈلیوں تک، کوئی گھٹنوں تک، کوئی کمر تک، کوئی سینے تک اور کوئی گردن تک جلا ہوا ہو گا، البتہ آگ ان کے چہروں کونہیں جلائے گی، یہ لوگ ان کو جہنم سے نکال لائیں گے اور پھر ان کو مَاءُ الْحَیَاۃ میں ڈال دیا جائے گا۔ کسی نے پوچھا: اے اللہ کے رسول! مَاءُ الْحَیَاۃ کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ اہل جنت کے غسل کا پانی ہوگا، یہ لوگ اس میں جاکر اس طرح اگیں گے جس طرح سیلاب کی جھاگ میں پودے اگتے ہیں، پھر انبیائے کرام ان لوگوں کے حق میں سفارش کریں گے، جنہوں نے خلوصِ دل سے اللہ کے معبود برحق ہونے کی شہادت دی ہو گی اور ان کو وہاں سے نکال کر باہر لے آئیں گے۔اس کے بعد اللہ تعالیٰ اہل جہنم پر اپنی خصوصی رحمت کرے گا اورجس بندے کے دل میں ایک دانے کے برابر بھی ایمان ہوگا، اللہ اسے جہنم سے نکال لے گا۔ [الفتح الربانی/يوم الحساب/حدیث: 13181]
تخریج الحدیث: «اسناده حسن، أخرجه مختصرا ابن ماجه: 4280، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11081 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11097»
الحكم على الحديث: صحیح