الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما ورد فى فضلها وحكمها
صلوٰۃ الضحیٰ کی فضیلت اور اس کے حکم کا بیان
حدیث نمبر: 2254
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: ((يُصْبِحُ عَلَى كُلِّ سُلَامَى مِنْ أَحَدِكُمْ صَدَقَةٌ، وَكُلُّ تَسْبِيحَةٍ صَدَقَةٌ وَتَهْلِيلَةٍ صَدَقَةٌ وَتَكْبِيرَةٍ صَدَقَةٌ وَتَحْمِيدَةٍ صَدَقَةٌ وَأَمْرٌ بِمَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ، وَنَهْيٌ عَنِ الْمُنْكَرِ صَدَقَةٌ، وَيُجْزِي أَحَدَكُمْ مِنْ ذَلِكَ كُلِّهِ رَكْعَتَانِ يَرْكَعُهُمَا مِنَ الضُّحَى))
سیّدنا ابوذر غفاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب تم میں سے کوئی صبح کرتا ہے تو اس کے ہر جوڑ پر صدقہ ہوتا ہے اورتسبیح کرنا صدقہ ہے، لا الہ الا اللہ کہنا صدقہ ہے، اللہ اکبر کہنا صدقہ ہے، نیکی کا حکم دیناصدقہ ہے اور برے کام سے روکنا صدقہ ہے (اس طرح یہ امور سر انجام دے کر ان اعضاء کا صدقہ ادا کیا جا سکتا ہے) اور ان تمام چیزوں سے دو رکعتیں کفایت کرتی ہیں، جو آدمی چاشت کے وقت ادا کرتا ہے۔ [الفتح الربانی/أبواب صلاة الضحى/حدیث: 2254]
تخریج الحدیث: «حديث صحيح، أخرجه ابوداود: 1285، 1286، 5244، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21475، 21548 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21807»
الحكم على الحديث: صحیح