🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
4. بابٌ فِيمَا جَاءَ فِي نَعِيمِ الْمُوَحِّدِينَ وَثَوَابِهِمْ وَوَعِيدِ الْمُشْرِكِينَ
توحیدوالوں کی نعمتوں اور ثواب اور شرک والوں کی وعید اور عذاب کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 24
عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ( (مَنْ شَهِدَ أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ وَأَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُهُ وَرَسُولُهُ وَأَنَّ عِيسَى عَبْدُ اللَّهِ وَرَسُولُهُ وَكَلِمَتُهُ أَلْقَاهَا إِلَى مَرْيَمَ وَرُوحٌ مِنْهُ وَأَنَّ الْجَنَّةَ حَقٌّ وَالنَّارَ حَقٌّ، أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْجَنَّةَ عَلَى مَا كَانَ مِنْ عَمَلٍ، (وَفِي رِوَايَةٍ:) أَدْخَلَهُ اللَّهُ تَبَارَكَ وَتَعَالَى الْجَنَّةَ مِنْ أَبْوَابِهَا الثَّمَانِيَةِ مِنْ أَيِّهَا شَاءَ دَخَلَ) )
سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص یہ گواہی دے کہ اللہ تعالیٰ ہی معبودِ برحق ہے، وہ اکیلا ہے، اس کا کوئی شریک نہیں اور یہ کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور یہ کہ عیسیٰ علیہ السلام، اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور اس کا کلمہ ہیں، جو اس نے حضرت مریم علیہا السلام کی طرف ڈالا اور وہ اس کی طرف سے روح ہیں، اور یہ کہ جنت حق ہے اور جہنم حق ہے تو اس شخص کا عمل جیسا مرضی ہو، اللہ تعالیٰ اسے جنت میں داخل کرے گا،“ ایک روایت میں ہے: ”وہ جنت کے آٹھ دروازوں میں سے جس دروازے سے چاہے گا، اللہ تعالیٰ اس کو اسی دروازے سے داخل کرے گا۔“ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 24]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3435، ومسلم: 28، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22675 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23051»
وضاحت: فوائد: … ہر آدمی ہی اللہ تعالیٰ کا کلمہ ہے، کیونکہ ہر ایک کی تخلیق کا تعلق اللہ تعالیٰ کے کلمے کُنْ سے ہوتا ہے، لیکن بیچ میں مردو زن کے تعلق کا ایک ظاہری سبب بھی ہوتا ہے، چونکہ حضرت عیسی ؑکی ولادت میں ظاہری اسباب کا کوئی دخل نہیں تھا، بلکہ وہ محض اللہ تعالیٰ کے کلمے کُنْ کی بنیاد پر وجود میں آئی، اس لیے حضرت عیسی ؑکو خاص طور پر اللہ تعالیٰ کا کلمہ کہا جاتا ہے۔

الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 3435


Al-Fath al-Rabbani Hadith 24 in Urdu