🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482 New
الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
1. باب فى وجوب معرفة الله تعالى وتوحيده والاعتراف بوجوده
اللہ تعالیٰ کی معرفت، توحید اوراس کے وجود کے اعتراف کے واجب ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 3
عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ:«يُقَالُ لِلرَّجُلِ مِنْ أَهْلِ النَّارِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ: أَرَأَيْتَ لَوْ كَانَ مَا عَلَى الْأَرْضِ مِنْ شَيْءٍ أَكُنْتَ مُفْتَدِيًا بِهِ؟ قَالَ: فَيَقُولُ: نَعَمْ، قَالَ: فَيَقُولُ: قَدْ أَرَدْتُ مِنْكَ أَهْوَنَ مِنْ ذَلِكَ، قَدْ أَخَذْتُ عَلَيْكَ فِي ظَهْرِ آدَمَ أَنْ لَا تُشْرِكَ بِي شَيْئًا فَأَبَيْتَ إِلَّا أَنْ تُشْرِكَ بِي» ۔
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: قیامت کے دن جہنمی آدمی سے کہا جائے گا: اس کے بارے میں تیرا کیا خیال ہے کہ زمین پر جو چیزیں بھی ہیں، کیا تو (اس عذاب سے بچنے کے لیے) وہ فدیے میں دے دے گا؟ وہ کہے گا: جی ہاں، اللہ تعالیٰ فرمائے گا: میں نے تو تجھ سے اس سے آسان چیز کا مطالبہ کیا تھا، میں نے تجھ سے یہ عہد لیا تھا، جبکہ تو آدم علیہ السلام کی پیٹھ میں تھا، کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ ٹھہرانا، لیکن تو نے انکار کر دیا تھا اور (اسی چیز پر ڈٹ گیا کہ) تو نے میرے ساتھ شرک ہی کرنا ہے۔ [الفتح الربانی/كتاب التوحيد/حدیث: 3]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 3334، ومسلم: 2805، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 12289 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 12314»
وضاحت: فوائد: … درج بالا اور اس موضوع کی دیگر احادیث میں «عَهْدِ اَلَسْت» کا ذکر ہے، یہ ترکیب آیت کے ان الفاظ «اَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ» سے بنی ہوئی ہے، یہ عہد حضرت آدم ؑکی تخلیق کے بعد ان کی پشت سے ہونے والی تمام اولاد سے لیا گیا، پوری آیات یوں ہیں:
«وَاِذْ اَخَذَ رَبُّكَ مِنْ بَنِيْ آدَمَ مِنْ ظُهُوْرِهِمْ ذُرِّيَّتَهُمْ وَاَشْهَدَهُمْ عَلٰي اَنْفُسِهِمْ أَلَسْتُ بِرَبِّكُمْ قَالُوْا بَلٰي شَهِدْنَآ أَنْ تَقُولُوْا يَوْمَ الْقِيٰمَةِ اِنَّا كُنَّا عَنْ هٰذَا غَافِلِيْنَ. أَوْ تَقُوْلُوْآ اِنَّمَا أَشْرَكَ آبَآؤُنَا مِنْ قَبْلُ وَ كُنَّا ذُرِّيَّةً مِنْ بَعْدِهِمْ أَفَتُهْلِكُنَا بِمَا فَعَلَ الْمُبْطِلُونَ»
اور جب آپ کے رب نے اولادِ آدم کی پشتوں سے ان کی اولاد کو نکالا اور ان کو ان کے نفسوں پر گواہ بنایا کیا میں تمہارا ربّ نہیں ہوں؟ سب نے جواب دیا کیوں نہیں! ہم سب گواہ بنتے ہیں۔ تاکہ تم لوگ قیامت کے روز یوں نہ کہو کہ ہم تو اس سے محض بے خبر تھے۔ یا یوں کہو کہ پہلے پہل یہ شرک تو ہمارے بڑوں نے کیا اور ہم ان کے بعد ان کی نسل میں ہوئے، سو کیا ان غلط راہ والوں کے فعل پر تو ہم کو ہلاکت میں ڈال دے گا۔ (سورۂ اعراف: ۱۷۲، ۱۷۳) یہ عہد ہم اس لیے تسلیم کریں گے کہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول نے اس کی اطلاع دے دی ہے، بہرحال اس کا اثر یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی ربوبیت کی یہ گواہی ہر انسان کی فطرت میں ودیعت رکھ دی گئی ہے اور اگر یہ فطرت مختلف آلائشوں کی وجہ سے اپنی حیثیت کھو نہ بیٹھی ہو تو ایسا انسان فوراً حق کی آواز کو قبول کرتا ہے، لیکن اگر شرک و بدعت یا گندے معاشرے کی وجہ سے وہ فطرت متأثر ہو چکی ہو تو اس کو حق تسلیم کرنے میں اجنبیت محسوس ہوتی ہے اور اس کے لیے یہ مرحلہ مشکل ہو جاتا ہے، جلد اور بدیر اسلام قبول کرنے والے صحابۂ کرام کی وجہ یہی تھی۔
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسی مفہوم کو ان الفاظ میں بیان کیا: ہر بچہ فطرت پر پیدا ہوتا ہے، پس اس کے ماں باپ اس کو یہودی یا نصرانی یا مجوسی بنا دیتے ہیں، جس طرح جانور کا بچہ صحیح سالم پیدا ہوتا ہے، اس کا ناک، کان کٹا نہیں ہوتا۔

الحكم على الحديث: صحیح

Al-Fath al-Rabbani Hadith 3 in Urdu