الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
37. بَابُ مَا جَاءَ فِي الْحِجَامَةِ وَالْاكْتِحَالِ وَغَسْلِ الرَّأْسِ لِلْمُحْرِمِ
محرم کے لیے سینگی لگوانے، سرمہ لگانے اور سر دھونے کا بیان
حدیث نمبر: 4260
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُحَيْنَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: احْتَجَمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ بِلَحْيِ جَمَلٍ مِنْ طَرِيقِ مَكَّةَ عَلَى وَسَطِ رَأْسِهِ وَهُوَ مُحْرِمٌ
۔ سیدنا عبد اللہ بن بحینہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مکہ کے راستہ میں لحی جمل کے مقام پر احرام کی حالت میں سر پر سینگی لگوائی تھی۔ [الفتح الربانی/كتاب الحج والعمرة/حدیث: 4260]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 1836، 5698، ومسلم: 1203، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 22924 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23312»
وضاحت: فوائد: … مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان ایک جگہ کا نام لحی جمل ہے اور یہ مقام مدینہ کے زیادہ قریب ہے۔ امام نووی نے کہا: اس بات پر اہل علم کا اجماع ہے کہ کسی عذرکی بنا پر سر وغیرہ سینگی لگوانا جائز ہے، اگرچہ بال کاٹنے پڑیں، لیکن بال کاٹنے کی وجہ سے فدیہ لازم آئے گا، اگر بال کاٹنے کی نوبت نہ آئے تو کوئی فدیہ نہیں ہو گا، اس کی دلیل اللہ تعالی کا یہ فرمان ہے: {فَمَنْ کَانَ مِنْکُمْ مَرِیْضًا اَوْ بِہٖاَذًی مِّنْ رَّأْسِہٖفَفِدْیَۃٌ} … ”البتہ جو بیمار ہو یا اس کے سر میں کوئی تکلیف ہو (جس کی وجہ سے سر منڈا لے) تو اس پر فدیہ ہے۔“ (سورۂ بقرہ: ۱۹۶) آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا سر میں سینگی لگوانا، اس کو عذر پر محمول کیا جائے، کیونکہ اس کے لیے ہر صورت میں بال کٹوانا پڑیں گے، اگر محرِم بغیر عذر کے سینگی لگوانا چاہے اور اس کے بال بھی کاٹنا پڑیں تو بال کاٹنے کی وجہ سے اس کا یہ فعل حرام ہو گا، ہاں اگر بال کاٹے بغیر سینگی لگوا لی جائے، جبکہ کوئی مجبوری بھی نہ ہو، تو یہ جائز ہو گا اور اس پر کوئی فدیہ بھی نہیں پڑے گا۔
الحكم على الحديث:
أخرجه البخاري: 1836
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4260 in Urdu