الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
28. بَابُ الْكَفْ عَنْ قَصْدِ النِّسَاءِ وَالصَّبْيَانِ وارهْبَانِ وَالشَّيْخ القَانِي بِالْقَتْلِ
عورتوں، بچوں، پادریوں اور انتہائی بوڑھے لوگوں کو بالارادہ قتل کرنے سے روکنے کا بیان
حدیث نمبر: 4997
عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ سَرِيعٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ أَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ وَغَزَوْتُ مَعَهُ فَأَصَبْتُ ظَهْرًا فَقَتَلَ النَّاسُ يَوْمَئِذٍ حَتَّى قَتَلُوا الْوِلْدَانَ وَقَالَ مَرَّةً الذُّرِّيَّةَ فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ مَا بَالُ أَقْوَامٍ جَاوَزَهُمُ الْقَتْلُ الْيَوْمَ حَتَّى قَتَلُوا الذُّرِّيَّةَ فَقَالَ رَجُلٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّمَا هُمْ أَوْلَادُ الْمُشْرِكِينَ فَقَالَ أَلَا إِنَّ خِيَارَكُمْ أَبْنَاءُ الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ قَالَ أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً أَلَا لَا تَقْتُلُوا ذُرِّيَّةً قَالَ كُلُّ نَسَمَةٍ تُولَدُ عَلَى الْفِطْرَةِ حَتَّى يُعْرِبَ عَنْهَا لِسَانُهَا فَأَبَوَاهَا يُهَوِّدَانِهَا وَيُنَصِّرَانِهَا
۔ سیدنا اسود بن سریع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ مل کرجہاد کیا، مجھے ایک سواری بھی مل گئی، اس دن لوگوں نے قتل کا ایسا سلسلہ قائم کیا کہ بچوں اور عورتوں کو بھی قتل کر دیا، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو پتہ چلا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: لوگوں کو کیا ہو گیا ہے، آج قتل تجاوز کر گیا ہے، یہاں تک کہ انھوں نے عورتوں اور بچوں کو بھی قتل کر دیا ہے۔ ایک آدمی نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو مشرکوں کی اولاد ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! تم میں سے پسندیدہ افراد بھی مشرکوں کی ہی اولاد ہیں۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: خبردار! تم بچوں اور عورتوں کو قتل مت کرو، خبردار! تم بچوں اور عورتوں کو قتل نہ کرو۔ پھر فرمایا: ہر جان فطرت پر پیدا ہوتی ہے، یہاں تک کہ اس کی اپنی زبان وضاحت کرنے لگ جائے اور اس کے والدین اس کو یہودی یا نصرانی بنا دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 4997]
تخریج الحدیث: «رجاله ثقات رجال الشيخين لكن سماع الحسن من الاسود لا يثبت عند بعضھم، أخرجه النسائي في الكبري: 8616، والدارمي: 2/ 223، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 15589 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 15674»
وضاحت: فوائد: … تم میں سے پسندیدہ افراد بھی مشرکوں کی ہی اولاد ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کامقصد یہ ہے کہ جلیل القدر صحابۂ کرام بھی تو مشرکوں کی اولاد ہیں، دراصل آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس آدمی کے فہم کا ردّ کر رہے ہیں۔
الحكم على الحديث:
رجاله ثقات رجال الشيخين لكن سماع الحسن من الاسود لا يثبت عند بعضھم
1 .....
Al-Fath al-Rabbani Hadith 4997 in Urdu