الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
32. بَابُ حَلْ الْغَنِيمَةِ مِنْ خَصُوصِيَاتِهِ صلَّى اللهُ عَليهِ وسَلمَ وَأُمَّتِهِ وَذِكْرِ أَحْكَامِ تَتَعَلَّقُ بِالْغَنِيمَةِ قَبْلَ قِسْمَتِهَا
اس امر کا بیان کہ غنیمت کا حلال ہونانبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور آپ کی امت کے خصائص میں سے ہے اور تقسیم سے قبل غنیمت سے متعلقہ احکام کاذکر
حدیث نمبر: 5017
عَنْ أَبِي لَبِيدٍ قَالَ غَزَوْنَا مَعَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَمُرَةَ كَابُلَ فَأَصَابَ النَّاسُ غَنِيمَةً فَانْتَهَبُوهَا فَأَمَرَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ مُنَادِيًا يُنَادِي إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ مَنِ انْتَهَبَ نُهْبَةً فَلَيْسَ مِنَّا فَرُدُّوا هَذِهِ الْغَنِيمَةَ فَرَدُّوهَا فَقَسَمَهَا بِالسَّوِيَّةِ
۔ ابو لبید کہتے ہیں: ہم نے سیدنا عبد الرحمن بن سمرہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ کابل میں جہاد کیا، جب لوگوں نے غنیمت حاصل کی تو انھوں نے تقسیم سے پہلے اس کو لوٹنا شروع کر دیا، سیدنا عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ایک مُنادِی کو حکم دیا کہ وہ یہ اعلان کرے کہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا: جس نے لوٹ مار کی، وہ ہم میں سے نہیں ہے۔ لہذا یہ غنیمتیں واپس کر دو، پس انھوں نے واپس کر دیں، پھر انھوں نے برابری کے ساتھ ان میں تقسیم کر دیں۔ [الفتح الربانی/كتاب الجهاد/حدیث: 5017]
تخریج الحدیث: «صحيح لغيره، أخرجه أبوداود: 2703، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20631 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20907»
الحكم على الحديث:
صحيح لغيره
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5017 in Urdu