الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
10. بابُ مَا جَاءَ فِي أَنْوَاعِ شَتَّى مِنَ التَّسْبِيحِ
تسبیح کی مختلف انواع کا بیان
حدیث نمبر: 5464
عَنِ النُّعْمَانِ بْنِ بَشِيرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ الَّذِينَ يَذْكُرُونَ مِنْ جَلَالِ اللَّهِ مِنْ تَسْبِيحِهِ وَتَحْمِيدِهِ وَتَكْبِيرِهِ وَتَهْلِيلِهِ يَتَعَاطَفْنَ حَوْلَ الْعَرْشِ لَهُنَّ دَوِيٌّ كَدَوِيِّ النَّحْلِ يُذَكِّرُونَ بِصَاحِبِهِنَّ أَلَا يُحِبُّ أَحَدُكُمْ أَنْ لَا يَزَالَ لَهُ عِنْدَ اللَّهِ شَيْءٌ يُذَكِّرُ بِهِ
۔ سیدنا نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جب لوگ تسبیح (سُبْحَانَ اللّٰہ)، تحمید (اَلْحَمْدُ لِلّٰہ)، تکبیر (اَللّٰہُ اَکْبَر) اور تہلیل (لَا اِلٰہَ اِلَّا اللّٰہ) کی صورت میں اللہ تعالیٰ کے جلال کا ذکر کرتے ہیں، تو یہ (اذکار) عرش کے اردا گرد عاجزی کرتے ہیں، شہد کی مکھی کی بھنبھناہٹ کی طرح ان کی آواز ہوتی ہے اور یہ اپنے (ذکر کرنے والے) صاحب کا تذکرہ کرتے ہیں۔ تو اب کیا تم لوگ نہیں چاہتے کہ تمہارا کوئی ایسا عمل ہو جو (عرش کے پاس) تمھاری یاد دلاتا رہے۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5464]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح، أخرجه الحاكم: 1/500، وابن ابي شيبة: 10/ 289، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 18362 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 18552»
وضاحت: فوائد: … اس کا مطلب یہ ہوا کہ جب آدمی اللہ تعالیٰ کی تسبیحات، تکبیرات، تہلیلات اور تحمیدات بیان کرتا ہے تو اس کا یہ عمل مخصوص وجود اختیار کرکے عرش کے اردگرد گھومنا شروع کردیتا ہے اور ذکر کرنے والے کا تذکرہ کرتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده صحيح
1 .....
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5464 in Urdu