الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
12. باب مَا جَاءَ فِي قَوْل لَا حَوْلَ وَلا قُوَّةَ إِلَّابِاللَّهِ وَفَضْلِهَا
لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ اِلَّا بِاللّٰہِ کے ذکر اور اس کی فضیلت کا بیان
حدیث نمبر: 5477
عَنْ سَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ أَخْبَرَنِي أَبُو أَيُّوبَ الْأَنْصَارِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةَ أُسْرِيَ بِهِ مَرَّ عَلَى إِبْرَاهِيمَ فَقَالَ مَنْ مَعَكَ يَا جِبْرِيلُ قَالَ هَذَا مُحَمَّدٌ فَقَالَ لَهُ إِبْرَاهِيمُ مُرْ أُمَّتَكَ فَلْيُكْثِرُوا مِنْ غِرَاسِ الْجَنَّةِ فَإِنَّ تُرْبَتَهَا طَيِّبَةٌ وَأَرْضَهَا وَاسِعَةٌ قَالَ وَمَا غِرَاسُ الْجَنَّةِ قَالَ لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّةَ إِلَّا بِاللَّهِ
۔ سیدنا ابو ایوب انصاری رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ جس رات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اسراء (اور معراج) کرایا گیا، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ابراہیم علیہ السلام کے پاس سے گزرے، انھوں نے پوچھا: اے جبریل! تیرے ساتھ کون ہے؟ انھوں نے کہا: یہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں، ابراہیم علیہ السلام نے کہا: اپنی امت کو حکم دینا کہ وہ جنت میں زیادہ سے زیادہ پودے لگائیں، پس بیشک اس کی مٹی پاکیزہ اور زرخیز ہے اور اس کی زمین وسیع ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا: جنت کے پودے کیا ہیں؟ انھوں نے کہا: لَا حَوْلَ وَلَا قُوَّۃَ إِلَّا بِاللّٰہِ۔ [الفتح الربانی/كتاب الأذكار والدعوات/حدیث: 5477]
تخریج الحدیث: «اسناده ضعيف، عبد الله بن عبد الرحمن مجھول الحال، أخرجه ابن حبان: 821، والطبراني في الكبير: 3898، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23552 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23948»
وضاحت: فوائد: … انسان اس ذکر کے ذریعے اللہ تعالیٰ کے سامنے عاجزی وانکساری کا اظہار کرتا ہے کہ جب وہ نیکیوں والے کام کرتا ہے اور برائیوں سے بچتا ہے، تو اس میں اس کا کوئی ذاتی کمال نہیں، بلکہ یہ تو اللہ تعالیٰ کی تائید و توفیق سے ہو رہا ہوتا ہے۔
الحكم على الحديث:
اسناده ضعيف
1 .....
Al-Fath al-Rabbani Hadith 5477 in Urdu