الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
2. باب ما جاء فى ضمان الوديعة والعارية
ودیعت اور عاریہ کے طور پر دی ہوئی چیزوں کی ضمانت کا بیان
حدیث نمبر: 6155
عَنْ صَفْوَانَ بْنِ أُمَيَّةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ اسْتَعَارَ مِنْهُ يَوْمَ حُنَيْنٍ أَدْرُعًا فَقَالَ أَغَصْبًا يَا مُحَمَّدُ قَالَ لَا بَلْ عَارِيَّةٌ مَضْمُونَةٌ قَالَ فَضَاعَ بَعْضُهَا فَعَرَضَ عَلَيْهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنْ أُضَمِّنَهَا لَهُ فَقَالَ أَنَا الْيَوْمَ يَا رَسُولَ اللَّهِ فِي الْإِسْلَامِ أَرْغَبُ
۔ سیدنا صفوان بن امیہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے حنین کے دن مجھ سے کچھ زرہیں ادھا ر لی تھیں۔ میں نے کہا: اے محمد! کیا ان کو غصب کر لیا جائے گا؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جی نہیں، بلکہ یہ ایسا عاریۃً ہے کہ جس کی ضمانت دی جارہی ہے۔ ہوا یوں کہ کچھ زرہیں ضائع ہو گئی تھیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی ضمانت بھرنے کی پیشکش کی تو میں (صفوان) نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج کل تو میں اسلام کی رغبت رکھتا ہوں (سو اب میں یہ چٹی کیسے لے سکتا ہوں)۔ [الفتح الربانی/مسائل الوديعة والعارية/حدیث: 6155]
تخریج الحدیث: «حديث حسن۔ أخرجه ابوداود: 3562، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 27636 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 28188»
الحكم على الحديث: صحیح