Eng Ur-Latn Book Store
🏠 💻 📰 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. باب ما جاء فى الرجل يحيي الأرض بغرس شجر أو حفر بير فماذا يكون حرمها؟
جو آدمی درخت لگا کر یا کنواں کھود کر زمین کو آباد کرتا ہے، اس کی حد ملکیت کتنی ہو گی؟
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 6165
عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ حَرِيمُ الْبِئْرِ أَرْبَعُونَ ذِرَاعًا مِنْ حَوَالَيْهَا كُلِّهَا لِأَعْطَانِ الْإِبِلِ وَالْغَنَمِ وَابْنُ السَّبِيلِ أَوَّلُ شَارِبٍ وَلَا يُمْنَعُ فَضْلُ مَاءٍ لِيُمْنَعَ بِهِ الْكَلَأُ
۔ سیدنا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کنویں کا احاطہ اس کی تمام اطراف سے چالیس ہاتھ ہو گا، یہ جگہ اونٹوں اور بکریوں کے بیٹھنے کے لیے ہو گی اور ایسے کنویں سے پینے والا پہلا شخص مسافر ہو گا اور زائد پانی سے اس مقصد کے لیے نہیں روکا جائے گا کہ اس کے ذریعے سے گھاس سے منع کر دیا جائے۔ [الفتح الربانی/حدیث: 6165]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح۔ أخرجه البيھقي: 6/ 155، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 10411 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 10416»
وضاحت: فوائد: … جب کوئی آدمی مردہ زمین میں کنواں کھودے گا تو اس کے ارد گرد چالیس چالیس ہاتھ تک جگہ از خود اس کا احاطہ بن جائے گی،یہ جگہ اونٹوں اور بکریوں کے بیٹھنے کے لیے استعمال ہو گی، کوئی دوسرا شخص اس احاطے کو ذاتی استعمال میں نہیں لا سکے گا۔
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا دور رس اور حکیمانہ فیصلہ ہے۔
مسافر پینے والا پہلا شخص ہو گا اس کا مفہوم یہ ہے کہ تمام حاضرین میں مسافر کو ترجیح دی جائے گی اور کنویں کے مالک کو اس کو روکنے کا کوئی حق حاصل نہیں ہو گا۔
آخری جملے کا مفہوم یہ ہے کہ کسی علاقے میں جانوروں کے چرنے کے لیے گھاس وغیرہ پائی جاتی ہے، لیکن وہاں پانی کا صرف ایک چشمہ یا کنواں ہے یا محدود پانی ہے، اب لوگ اس علاقے میں اپنے مویشیوں کو چرانے کے لیے تب لے جائیں گے، جب ان کو وہاں کا پانی استعمال کرنے کا حق ہو گا، اگر کوئی آدمی اس نیت سے اس پانی پر قبضہ کر کے بیٹھ جائے تاکہ لوگ اپنے مویشیوں کو چرانے کے لیے سرے سے اس علاقے میں ہی نہ جائیں تو ایسے آدمی کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا کرنے سے روک رہے رہیں۔

الحكم على الحديث: صحیح