🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️


الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

الفتح الربانی میں ترقیم شاملہ سے تلاش کل احادیث (13345)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربی لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربی لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
2. بَابُ فِي اسْتِحْبَابِ تَعْمِيمِ السَّلَامِ وَكَرَاهَةِ تَحْصِيصِهِ بِمَنْ يَعْرَفُ
سلام کو عام کرنے کے مستحبّ ہونے اور معرفت والے لوگوں کے لیے¤خاص کرنے کے مکروہ ہونے کا بیان
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 8258
عَنِ ابْنِ مَسْعُودٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ إِنَّ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ أَنْ يُسَلِّمَ الرَّجُلُ عَلَى الرَّجُلِ لَا يُسَلِّمُ عَلَيْهِ إِلَّا لِلْمَعْرِفَةِ
۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ قیامت کی علامتوں میں سے ہے کہ ایک آدمی کا دوسرے آدمی کو سلام اس کی معرفت کی بنا پر ہو گا۔ [الفتح الربانی/كتاب السلام والاستئذان وآداب أخرى/حدیث: 8258]
تخریج الحدیث: «حديث حسن، وانظر الحديثيں السابقين ترقیم بيت الأفكار الدولية: 3848»
وضاحت: فوائد: … نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے سلام کو عام کرنے کا حکم دیا ہے،نیز مسلمان کواس لیے سلام کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالی اور اس کے رسول نے حکم دیا ہے، جب آدمی ذاتی معرفت کی بنا پر سلام کہے گا تو وہ دراصل اللہ تعالی اور اس کے رسول کا حکم نہیں ہو گا، جبکہ اب وہی کچھ ہو رہا ہے، جس کو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قیامت کی علامت قرار دیا تھا، اب کسی کو سلام کہنے کے لیے ضروری ہو گیا ہے کہ ذاتی معرفت ہونی چاہیے، اجنبی لوگوں کا معاملہ گونگوں سے زیادہ نہیں ہے۔

الحكم على الحديث:
حديث حسن


Al-Fath al-Rabbani Hadith 8258 in Urdu