الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
33. باب: والزانية لا ينكحها إلا زان أو مشرك
سورۂ نور {اَلزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِکٌ} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8686
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ إِنَّ رَجُلًا مِنْ الْمُسْلِمِينَ اسْتَأْذَنَ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ فِي امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا أُمُّ مَهْزُولٍ كَانَتْ تُسَافِحُ وَتَشْتَرِطُ لَهُ أَنْ تُنْفِقَ عَلَيْهِ وَأَنَّهُ اسْتَأْذَنَ فِيهَا النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَوْ ذَكَرَ لَهُ أَمْرَهَا فَقَرَأَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ {الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} [النور: 3] قَالَ أُنْزِلَتْ {الزَّانِيَةُ لَا يَنْكِحُهَا إِلَّا زَانٍ أَوْ مُشْرِكٌ} [النور: 3] قَالَ أَبِي قَالَ عَارِمٌ سَأَلْتُ مُعْتَمِرًا عَنْ الْحَضْرَمِيِّ فَقَالَ كَانَ قَاصًّا وَقَدْ رَأَيْتُهُ
۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ ایک مسلمان آدمی نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اجازت طلب کی کہ کیا وہ ام مہزول نامی ایک عورت سے نکاح کر سکتا ہے، یہ خاتون زناکار تھی اور اس نے اس سے شرط لگائی تھی کہ وہ اس پر خرچ کرے گا، جب اس آدمی نے اس عورت سے نکاح کرنے کی اجازت طلب کی یا آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سامنے اس کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: {الزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا إِلَّا زَانٍ أَ وْ مُشْرِکٌ} … زناکار عورت سے صرف زنا کار یامشرک مرد ہی نکاح کر سکتا ہے۔ عارم کہتے ہیں: میں معتمر سے حضرمی کے بارے میں پوچھا، انھوں نے کہا: وہ ایک قصہ گو آدمی تھا اور میں نے اس کو دیکھا تھا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة إبراهيم إلى سورة الشعراء/حدیث: 8686]
تخریج الحدیث: «حسن۔ أخرجه النسائي في الكبري: 11359، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 7099 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 7099»
وضاحت: فوائد: … سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ((أَ نَّ مَرْثَدَ بْنَ أَ بِی مَرْثَدٍ الْغَنَوِیَّ کَانَ یَحْمِلُ الْأُ سَارٰی بِمَکَّۃَ وَکَانَ بِمَکَّۃَ بَغِیٌّیُقَالُ لَہَا عَنَاقُ وَکَانَتْ صَدِیقَتَہُ۔ قَالَ جِئْتُ إِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَ نْکِحُ عَنَاقَ، قَالَ فَسَکَتَ عَنِّی فَنَزَلَتْ {وَالزَّانِیَۃُ لَا یَنْکِحُہَا إِلَّا زَانٍ أَ وْ مُشْرِکٌ} فَدَعَانِی فَقَرَأَ ہَا عَلَیَّ وَقَالَ: ((لَا تَنْکِحْہَا۔)) (ابوداود: ۱۷۵۵، نسائی: ۳۲۲۸) سیدنا مرثدغنوی رضی اللہ عنہ مسلمان قیدیوں کو مکہ مکرمہ سے منتقل کرتے تھے، جبکہ مکہ میں عناق نامی ایک زانی خاتون تھی، (دورِ جاہلیت میں) وہ ان کی سہیلی بنی ہوئی تھی، سیدنا مرثد رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! میں عناق سے شادی کر لوں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھ سے خاموش ہو گئے، پس یہ آیت نازل ہوئی: اور زانی خاتون، اس سے کوئی شادی نہیں کرتا، مگر زانییا مشرک۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے بلایا،یہ آیتیں مجھے سنائیں اور فرمایا: تو اس سے شادی نہ کر۔
الحكم على الحديث: صحیح