الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
21. باب: ويحلفون على الكذب وهم يعلمون
سورۂ مجادلہ {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِیْ تُجَادِلُکَ فِیْ زَوْجِہَا …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8784
عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِي وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ لَقَدْ جَاءَتِ الْمُجَادِلَةُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ تُكَلِّمُهُ وَأَنَا فِي نَاحِيَةِ الْبَيْتِ مَا أَسْمَعُ مَا تَقُولُ فَأَنْزَلَ اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا [سورة المجادلة: ١] إِلَى آخِرِ الْآيَةِ
۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: تمام تعریفات اس اللہ کے لئے ہیں، جس کا سننا تمام آوازوں کو شامل ہے، بحث و تکرار کرنے والی (سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آئی اور گفتگو کرنے لگی، جبکہ میں گھر کے ایک کونے میں تھی، میں اس کی بات نہ سن سکی، لیکن اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل کر دیں: {قَدْ سَمِعَ اللّٰہُ قَوْلَ الَّتِی تُجَادِلُکَ فِی زَوْجِہَا وَتَشْتَکِیْ إِلَی اللّٰہِ وَاللّٰہُ یَسْمَعُ تَحَاوُرَ کُمَا إِنَّ اللّٰہَ سَمِیعٌ بَصِیرٌ۔} … یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کی طرف شکایت کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة محمد إلى سورة التحريم/حدیث: 8784]
تخریج الحدیث: «اسناده صحيح علي شرط مسلم۔ أخرجه ابوداود: 2220، وابن ماجه: 188، والنسائي: 6/ 168، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 24195 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 24699»
الحكم على الحديث: صحیح