الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب: والضحى ولليل إذا سجٰى
{فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ اَحَدٌ …} کی تفسیر
حدیث نمبر: 8830
عَنْ أَبِي قِلَابَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَمَّنْ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذِّبُ عَذَابَهُ أَحَدٌ وَلَا يُوثِقُ وَثَاقَهُ أَحَدٌ [سورة الفجر: ٢٥-٢٦] يَعْنِي يُفْعَلُ بِهِ قَالَ خَالِدٌ وَسَأَلْتُ عَبْدَ الرَّحْمَنِ بْنَ أَبِي بَكْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ فَيَوْمَئِذٍ لَا يُعَذِّبُ أَيْ يُفْعَلُ بِهِ
۔ ایک صحابی ٔ رسول سے مروی ہے، جس نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ پڑھتے ہوئے سنا: {فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ عَذَابَہُ أَحَدٌ۔ وَلَایُوثِقُ وَثَاقَہُ أَحَدٌ۔} … پس اس دن اس کے عذاب جیسا عذاب کوئی نہیں کرے گا، اور نہ اس کے باندھنے جیسا کوئی باندھے گا۔ یعنی اس بندے کے ساتھ ایسے کیا جائے گا، خالد کہتے ہیں: میں نے عبد الرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہما سے کہا: {فَیَوْمَئِذٍ لَا یُعَذِّبُ} کا کیامعنی؟ انھوں نے کہا: یعنی اس کے ساتھ کیا جائے گا۔ [الفتح الربانی/تفسير من سورة الأعلى إلى سورة الناس/حدیث: 8830]
تخریج الحدیث: «ضعيف الاسناد، قاله الالباني۔ أخرجه ابوداود: 3996، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 20691 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 20967»
الحكم على الحديث: ضعیف