الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
3. باب فى الترغيب فى خصال مجتمعة من أفضل أعمال البر والنهي عن ضدها
نیکی کے افضل اعمال میں سے اجتماعی خصائل کی رغبت دلانے اور ان کے متناقض امور سے ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 8979
عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَائِشٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ عَلَيْهِمْ ذَاتَ غَدْوَةٍ وَهُوَ طَيِّبُ النَّفْسِ مُسْفِرُ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقُ الْوَجْهِ فَقُلْنَا يَا رَسُولَ اللَّهِ إِنَّا نَرَاكَ طَيِّبَ النَّفْسِ مُسْفِرَ الْوَجْهِ أَوْ مُشْرِقَ الْوَجْهِ فَقَالَ وَمَا يَمْنَعُنِي وَأَتَانِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ فِي أَحْسَنِ صُورَةٍ قَالَ يَا مُحَمَّدُ قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّي وَسَعْدَيْكَ قَالَ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قُلْتُ لَا أَدْرِي أَيْ رَبِّ قَالَ ذَلِكَ مَرَّتَيْنِ أَوْ ثَلَاثًا قَالَ فَوَضَعَ كَفَّيْهِ بَيْنَ كَتِفَيَّ فَوَجَدْتُ بَرْدَهَا بَيْنَ ثَدْيَيَّ حَتَّى تَجَلَّى لِي مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ثُمَّ تَلَا هَذِهِ الْآيَةَ {وَكَذَلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ} [سورة الأنعام: ٧٥] ثُمَّ قَالَ يَا مُحَمَّدُ فِيمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلَى قَالَ قُلْتُ فِي الْكَفَّارَاتِ قَالَ وَمَا الْكَفَّارَاتُ قُلْتُ الْمَشْيُ عَلَى الْأَقْدَامِ إِلَى الْجُمُعَاتِ وَالْجُلُوسُ فِي الْمَسْجِدِ خَلْفَ الصَّلَوَاتِ وَإِبْلَاغُ الْوُضُوءِ فِي الْمَكَارِهِ قَالَ مَنْ فَعَلَ ذَلِكَ عَاشَ بِخَيْرٍ وَمَاتَ بِخَيْرٍ وَكَانَ مِنْ خَطِيئَتِهِ كَيَوْمِ وَلَدَتْهُ أُمُّهُ وَمِنَ الدَّرَجَاتِ طَيِّبُ الْكَلَامِ وَبَذْلُ السَّلَامِ وَإِطْعَامُ الطَّعَامِ وَالصَّلَاةُ بِاللَّيْلِ وَالنَّاسُ نِيَامٌ قَالَ يَا مُحَمَّدُ إِذَا صَلَّيْتَ فَقُلْ اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ الطَّيِّبَاتِ وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ وَأَنْ تَتُوبَ عَلَيَّ وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةً فِي النَّاسِ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ
۔ عبد الرحمن بن عائش ایک صحابی سے روایت کرتے ہیں کہ ایک صبح کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کے پاس تشریف لائے، جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خوشگوار موڈ میں تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چہرے پر سفیدی یا چمک محسوس ہو رہی تھی، ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! آج تو ہم آپ کو بڑے عمدہ موڈ میں دیکھ رہے ہیں اور آپ کے چہرے پر سفیدی یا چمک بھی محسوس کی جا رہی ہے، کیا وجہ ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: بھلا مجھے کون سی چیز اس سے محروم کر سکتی ہے، بات یہ ہے کہ آج رات میرا ربّ سب سے خوبصورت شکل میں میرے پاس آیا اور کہا: اے محمد! میں نے کہا: جی میرے ربّ! میں حاضر ہوں، میں حاضر ہوں، اللہ تعالیٰ نے کہا: مقرب فرشتے کس موضوع پر بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: اے میرے ربّ! میں تو نہیں جانتا، ایسے دو تین دفعہ ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے اپنی ہتھیلیاں میرے کندھوں پر کے درمیان رکھیں، مجھے اپنے سینے میں ان کی ٹھنڈک محسوس ہوئی اور آسمان و زمین کی ہر چیز میرے لیے واضح ہو گی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ آیت تلاوت کی: {وَکَذٰلِکَ نُرِی اِبْرَاھِیْمَ مَلَکُوْتَ السَّمٰوٰتِ وَاْلاَرْضِ وَلِیَکُوْنَ مِنَ الْمُوْقِنِیْنَ} … اور ہم نے ایسے ہی ابراہیم (علیہ السلام) کو آسمانوں اور زمین کی مخلوقات دکھلائیں اور تاکہ وہ کامل یقین کرنے والوں سے ہو جائیں۔ (سورۂ انعام: ۷۵) پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! مقرب فرشتے کس چیز میں بحث کرتے ہیں؟ میں نے کہا: کفّارات میں، اللہ تعالیٰ نے کہا: کفارات سے کیا مراد ہے؟ میں نے کہا: جماعتوں کی طرف پیدل چل کر جانا، نمازوں کے بعد مسجد میں بیٹھنا اور ناپسند حالتوں کے باوجود مکمل وضو کرنا۔ پھر فرمایا: جس نے یہ امور سر انجام دیئے، اس نے خیر کے ساتھ زندگی گزاری اور خیر کے ساتھ فوت ہوا، اور اپنے گناہوں سے اس طرح پاک ہو جائے گا، جیسے اس دن تھا، جس دن اس کی ماں نے اس کو جنم دیا تھا، اور درجات یہ ہیں: اچھا کلام کرنا، سلام پھیلانا، کھانا کھلانا اور رات کو جب لوگ سو رہے ہوں تو نماز پڑھنا۔ پھر اللہ تعالیٰ نے کہا: اے محمد! جب تم نماز پڑھو تو یہ دعا کیا کرو: اَللّٰھُمَّ اِنِّیْ اَسْاَلُکَ الطَّیِّبَاتِ، وَتَرْکَ الْمُنْکَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاکِیْنِ، وَاَنْ تَتُوْبَ عَلَیَّ، وَاِذَا اَرَدْتَّ فِتْنَۃًفِی الْنَّاسِ فَتَوَفَّنِیْ غَیْرَ مَفْتُوْنٍ۔ … اے اللہ! میں تجھ سے پاکیزہ چیزوں کو کرنے، برائیوں کو ترک کرنے اور مسکینوں سے محبت کرنے کا سوال کرتا ہوں اور یہ کہ تو مجھ پر رجوع کر اور جب تو لوگوں کے ساتھ فتنے کا ارادہ کرے تو مجھے اس میں مبتلا کیے بغیر فوت کر دینا۔ [الفتح الربانی/مسائل الترغيب فى الأعمال الصالحة/حدیث: 8979]
تخریج الحدیث: «انظر الحديث السابق، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 23210 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 23597»
وضاحت: فوائد: … ان دو احادیث ِ مبارکہ کے متن پر غور کریں اور اندازہ لگائیں کہ جن اعمال کی ہمارے معاشرے میں کوئی خاص قدر وقیمت نہیں ہے، اللہ تعالیٰ کے نزدیک وہ کتنے اہم ہیں۔ دیکھیں کہ جب اللہ تعالیٰ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ملاقات ہوئی تو جہانوں کے پروردگار اور بشریت کے سردار کی باتوں کا موضوع کیا تھا، یہ کتنی پاکیزہ مجلس تھی،یہ کتنا بابرکت کلام تھا، یہ سوالات و جوابات کی کتنی عمدہ نشست تھی، سبحان اللہ۔ قارئین سے گزارش ہے کہ ان دو احادیث میںجن اعمال کا ذکر کیا گیا ہے، ان کو حرزِ جان بنائیں اور ان پر دوام اختیار کریں۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا۔
ان احادیث سے ثابت ہوا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے خواب میں اللہ تعالیٰ کا دیدار کیا۔
الحكم على الحديث: صحیح