الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب النهي عن الجلوس فى الطرقات إلا بحقها
ضرورت کے علاوہ راستوں میں بیٹھنے کی ممانعت کا بیان
حدیث نمبر: 9484
عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ قَالَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ ((إِيَّاكُمْ وَالْجُلُوسَ فِي الطُّرُقَاتِ)) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ مَا لَنَا مِنْ مَجَالِسِنَا بُدٌّ نَتَحَدَّثُ فِيهَا قَالَ ((فَأَمَّا إِذَا أَبَيْتُمْ فَأَعْطُوا الطَّرِيقَ حَقَّهُ)) قَالُوا يَا رَسُولَ اللَّهِ فَمَا حَقُّ الطَّرِيقِ قَالَ ((غَضُّ الْبَصَرِ وَكَفُّ الْأَذَى وَرَدُّ السَّلَامِ وَالْأَمْرُ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّهْيُ عَنِ الْمُنْكَرِ))
۔ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: راستوں میں بیٹھنے سے بچو۔ صحابہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری مجلسوں کے لیے اس سے کوئی چارۂ کار نہیں ہے، ہم نے راستوں پر باتیں کرنا ہوتی ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اگر تم نے انکار ہی کرنا ہے تو پھر راستے کو اس کا حق دیا کرو۔ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! راستے کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: نگاہ جھکا کر رکھنا، تکلیف نہ دینا، سلام کا جواب دینا، نیکی کا حکم دینا اور برائی سے منع کرنا۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9484]
تخریج الحدیث: «أخرجه البخاري: 2465، ومسلم: 2121، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 11309 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 11329»
الحكم على الحديث: صحیح