الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
4. باب آداب تختص بمن فى المجلس
مجلس میں موجود لوگوں کے ساتھ خاص آداب
حدیث نمبر: 9506
عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ قَالَ مَنْ حَدَّثَ فِي مَجْلِسٍ بِحَدِيثٍ ثُمَّ الْتَفَتَ فَهِيَ أَمَانَةٌ
۔ سیدنا عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: جس بندے نے مجلس میں کوئی بات کی اور پھر وہ اِدھر اُدھر متوجہ ہوا تو وہ بات امانت ہو گی۔ [الفتح الربانی/بيان آداب المجالس/حدیث: 9506]
تخریج الحدیث: «حسن لغيره، أخرجه ابوداود: 4868، والترمذي: 1959، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 14474 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 14528»
وضاحت: فوائد: … امام مبارکپوری رحمتہ اللہ علیہ نے اس حدیث ِ مبارکہ کی شرح کرتے ہوئے لکھا: اگر کوئی آدمی کسی دوسرے شخص کے ساتھ گفتگو کر رہا ہو اور وہ گفتگو کے دوران دائیں بائیں دیکھے، تو اس سے یہ سمجھنا پڑے گا کہ وہ ہ راز کی بات کرنا چاہتا ہے اور اسے دوسرے لوگوں سے مخفی رکھنا چاہتا ہے۔ ایسی گفتگو امانت ہو گی اور اس کو راز رکھنا واجب ہو گا۔ ابن ارسلان نے کہا: متکلم کے ادھر ادھر دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اسے اس بات کا خطرہ ہے کہ کوئی اس کی بات سن نہ لے، وہ صرف اپنے ہم مجلس تک اپنے راز کو محفوظ رکھنا چاہتا ہے۔ دراصل وہ ادھر ادھر دیکھ کر اپنے مخاطَب کو یہ کہنا چاہتا ہے کہ وہ اس کی گفتگو سنے، اس کو راز اور امانت سمجھے۔ (تحفۃ الاحوذی)
الحكم على الحديث: صحیح