الفتح الربانی سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شاملہ
عربی
اردو
1. باب ما جاء فى المفردات
مفردات کا بیان
حدیث نمبر: 9549
عَنْ أَبِي ذَرٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ ((لَا تَحْقِرَنَّ مِنَ الْمَعْرُوفِ شَيْئًا فَإِنْ لَمْ تَجِدْ فَالْقَ أَخَاكَ بِوَجْهٍ طَلْقٍ))
۔ سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: کسی نیکی کو ہر گز حقیر نہ سمجھنا، پس اگر تیرے پاس کچھ نہ ہو تو مسکراتے چہرے کے ساتھ مل لیا کر۔ [الفتح الربانی/كتاب جامع فى الترغيب: الآداب والمواعظ والحكم وجوامع الكلم، يبدأ بالثلاثيات/حدیث: 9549]
تخریج الحدیث: «أخرجه مسلم: 2626، (انظر مسند أحمد ترقيم الرسالة: 21519 ترقیم بيت الأفكار الدولية: 21852»
وضاحت: فوائد: … اگر فرض کریں کہ کسی انسان میں کوئی نیکی کرنے کی ہمت باقی نہ رہے تو یہ تو اس کے بس کی بات ہو گی کہ دوسرے لوگوں سے خندہ پیشانی کے ساتھ ملاقات کر لے، لیکن آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے جس نیکی کو سب سے آسان قرار دیا تھا، آج ہم نے اس کو سر انجام دینے کے لیے شخصیتوں کو خاص کر لیا ہے اور ہر مسلمان کو اپنی مسکراہٹوںکا حقدار نہیں سمجھا ہے۔ نیکی کا ہر کام مسلمان کا گم شدہ متاع ہے، وہ جہاں سے بھی ملے، وہی اس کا زیادہ مستحق ہو گا، آخرت کا تقاضا یہی ہے کہ چھوٹی اور بڑی نیکی میں فرق نہ کیا جائے۔
الحكم على الحديث: صحیح