سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
162. باب المرأة تلد لستة أشهر
باب: اُس عورت کا بیان جس کے ہاں چھے مہینے میں بچہ پیدا ہو۔
ترقیم دار السلفیہ: 2078 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3255
نا أَبُو مُعَاوِيَةَ، نا الأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي ظَبْيَانَ، قَالَ: أُتِيَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ بِمَجْنُونَةٍ، فَأَمَرَ بِرَجْمِهَا، فَمُرَّ بِهَا عَلَى عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتْبَعُهَا الصِّبْيَانُ، فَقَالَ: مَا هَذِهِ؟ قَالُوا: مَجْنُونَةٌ فَجَرَتْ، فَأَمَرَ عُمَرُ بِرَجْمِهَا، فَقَالَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: كَمَا أَنْتُمْ، لا تَعْجَلُوا، فَأَتَى عُمَرَ، فَقَالَ:" يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ! أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ " الْقَلَمَ رُفِعَ عَنْ ثَلاثَةٍ: عَنِ النَّائِمِ حَتَّى يَسْتَيْقِظَ، وَالْمَجْنُونِ حَتَّى يَبْرُؤَ، وَعَنِ الصَّغِيرِ حَتَّى يُدْرِكَ" فَقَالَ عُمَرُ: كَذَلِكَ، فَقَالَ عَلِيٌّ لِعُمَرَ: فَرُدَّهَا، وَخَلِّ سَبِيلَهَا.
ایک دیوانی عورت فاحشہ ہو گئی تو سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے رجم کا حکم دیا، حضرت علی رضی اللہ عنہ نے کہا: ”پاگل پر حد نہیں ہے۔“ لہٰذا اسے چھوڑ دیا گیا۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3255]
تخریج الحدیث: «إسناده حسن، وأخرجه ابن خزيمة فى «صحيحه» برقم: 1003، 3048، وابن حبان فى «صحيحه» برقم: 143،والحاكم فى «مستدركه» برقم: 955، 2364،وأبو داود فى «سننه» برقم: 4399، 4402، 4403، والترمذي فى «جامعه» برقم: 1423، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 2042، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2078، 2080، 2081، 2082، والدارقطني فى «سننه» برقم: 3267، وأحمد فى «مسنده» برقم: 955، وابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 19590»
وضاحت: وضاحت: یہ روایت اسلامی فوجداری قانون کا بنیادی اصول مہیا کرتی ہے:
«لا جَرمَ بلا عقل» — جرم وہی معتبر ہے جو عقل اور قصد کے ساتھ سرزد ہو
عصرِ حاضر میں نفسیاتی مریضوں یا ذہنی طور پر معذور افراد کے لیے عدالتی تحفظ کی بنیاد
✅ نتیجہ:
یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی و قانونی اصول کا اعلیٰ نمونہ ہے
اس میں حدود کے نفاذ میں عقل کی شرط، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا رجوع نہایت واضح ہے۔
«لا جَرمَ بلا عقل» — جرم وہی معتبر ہے جو عقل اور قصد کے ساتھ سرزد ہو
عصرِ حاضر میں نفسیاتی مریضوں یا ذہنی طور پر معذور افراد کے لیے عدالتی تحفظ کی بنیاد
✅ نتیجہ:
یہ اثر صحیح الاسناد ہے، اور فقہی و قانونی اصول کا اعلیٰ نمونہ ہے
اس میں حدود کے نفاذ میں عقل کی شرط، اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی بصیرت کے سامنے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا رجوع نہایت واضح ہے۔
الحكم على الحديث: إسناده حسن
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥علي بن أبي طالب الهاشمي، أبو الحسن، أبو الحسين | صحابي |