🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
173. باب ما يحل للرجل من امرأته إذا كانت حائضا
باب: حائضہ عورت کے ساتھ تعلقات کا جواز
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2143 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3320
نا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ طَارِقِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْبَجَلِيِّ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عَمْرٍو ، قَالَ: خَرَجَ نَفَرٌ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ إِلَى عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ فَسَأَلَهُمْ:" مِنْ أَيْنَ أَنْتُمْ؟" فَقَالُوا: مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ، فَقَالَ:" أَبِإِذْنِي جِئْتُمْ؟" قَالُوا: نَعَمْ، فَسَأَلُوهُ مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ، وَعَنْ غُسْلِ الْجَنَابَةِ، وَعَنْ صَلاةِ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ، فَقَالَ لَهُمْ:" أَسَحَرَةٌ أَنْتُمْ؟" فَقَالُوا: لا وَاللَّهِ، وَمَا نَحْنُ بِسَحَرَةٍ، فَقَالَ:" لَقَدْ سَأَلْتُمُونِي عَنْ خِصَالٍ مَا سَأَلَنِي عَنْهُنَّ جَمِيعًا بَعْدَ إِذْ سَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَيْرُكُمْ، أَمَّا " مَا يَحِلُّ لِلرَّجُلِ مِنِ امْرَأَتِهِ وَهِيَ حَائِضٌ فَمَا فَوْقَ الإِزَارِ، وَأَمَّا صَلاةُ الرَّجُلِ فِي بَيْتِهِ فَنُورٌ، فَنَوِّرُوا بُيُوتَكُمْ، وَأَمَّا الْغُسْلُ مِنَ الْجَنَابَةِ فَتَوَضَّأْ وُضُوءَ الصَّلاةِ، ثُمَّ اغْسِلْ رَأْسَكَ ثَلاثًا، ثُمَّ أَفِضْ عَلَى سَائِرِ جَسَدِكَ" .
سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مرد حائضہ عورت سے صرف ازار کے اوپر مباشرت کرے، گھر میں نماز پڑھنا روشنی ہے، غسل جنابت میں وضو کرے پھر سر اور پورے جسم پر پانی بہائے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الطلاق/حدیث: 3320]
تخریج الحدیث: «إسناده مرسل، وأخرجه الضياء المقدسي فى "الأحاديث المختارة"، 260، 261، وابن ماجه فى «سننه» برقم: 1375، 1375 م، وسعيد بن منصور فى «سننه» ترقيم الدرالسلفية برقم:، 2143، والبيهقي فى «سننه الكبير» برقم: 1523، وأحمد فى «مسنده» برقم: 87، والطيالسي فى «مسنده» برقم: 49، وأورده ابن حجر فى "المطالب العالية"، 168، وأخرجه عبد الرزاق فى «مصنفه» برقم: 987، 988، 1238، وأخرجه ابن أبى شيبة فى «مصنفه» برقم: 699، 704، 6521، 17103، وأخرجه الطحاوي فى «شرح معاني الآثار» برقم: 4377، 4378، 4379، 4380»
وضاحت: وضاحت: اثر عاصم بن عمرو سنداً ضعیف ہے، لیکن اس کا متن متواتر صحیح احادیث سے تقویت یافتہ ہے، اس لیے فقہی استنباط اور تعلیم و فہم کے لیے قابلِ قبول اور مفید ہے، خود سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کا اسلوب و حکمت بھی اس میں نمایاں ہے

فائدہ: سیدنا عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ کا ایک فقہی و تربیتی مجلسی بیان ہے۔ اس میں متعدد عبادات اور احکامِ طہارت سے متعلق سوالات کا جواب دیا گیا، اور ساتھ ہی اس کے انداز سے تعلیم، فہم اور ادبِ سوال کی روح بھی جھلکتی ہے۔ یہ اثر صحابہ کے تعلیمی اسلوب، فقیہی اجتہاد، اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی علم کی روایت کا عملی مظہر ہے۔ اضافی نکتہ: جب عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا: "أسحرة أنتم؟" (کیا تم لوگ جادوگر ہو؟) تو یہ طنز نہیں بلکہ حیرت اور تعجب کا اظہار تھا کہ: "تم نے وہ سوال کیے جنہیں آج تک کسی نے ایک ساتھ نہیں پوچھا" یہ سوال کرنے والوں کی علمی طلب کی تعریف بھی ہے اور علم کی حرمت کا اظہار بھی۔
✅ نتیجہ: یہ اثر: سنداً حسن کے درجہ کے قریب ہے (روایات کے مجموعے میں) اور صحابی جلیل کا جامع علمی بیان ہے اس میں طہارت، حیض، اور نماز کے احکام نہایت جامع، مختصر اور اصولی انداز میں سکھائے گئے ہیں ساتھ ہی تعلیم کا ادب، سوال کا اسلوب، اور سنتِ نبوی کی پیروی کا ایک خوبصورت نمونہ بھی پیش کیا گیا ہے۔

الحكم على الحديث: إسناده مرسل

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي
👤←👥عاصم بن عمرو البجلي
Newعاصم بن عمرو البجلي ← عمر بن الخطاب العدوي
صدوق رمي بالتشيع
👤←👥طارق بن عبد الرحمن البجلي
Newطارق بن عبد الرحمن البجلي ← عاصم بن عمرو البجلي
صدوق حسن الحديث
👤←👥سلام بن سليم الحنفي، أبو الأحوص
Newسلام بن سليم الحنفي ← طارق بن عبد الرحمن البجلي
ثقة متقن