🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم شرکۃ الحروف سے تلاش کل احادیث (4154)
حدیث نمبر لکھیں:
ترقیم دار السلفیہ سے تلاش کل احادیث (2978)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
252. باب تفريق السبي بين الوالد وولده والقرابات
باب: قیدیوں کو ان کے والدین اور رشتہ داروں سے الگ کرنے کا بیان
اظهار التشكيل
ترقیم دار السلفیہ: 2655 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 3832
نا نا إِسْمَاعِيلُ بْنُ عَيَّاشٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءٍ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ كَانَ " يَنْهَى عَنْ تَفْرِيقِ، ذَوِي الْقَرَابَةِ" .
سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ قرابت دار قیدیوں کو جدا کرنے سے منع کرتے تھے۔ [سنن سعید بن منصور/كتاب الجهاد/حدیث: 3832]
تخریج الحدیث: «إسناده ضعيف، و «انفرد به المصنف من هذا الطريق» »
وضاحت: عطاء بن ابی رباح تابعی ہیں، اور یہاں عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے مرسل روایت کر رہے ہیں۔
مرسل روایت اصول حدیث میں ضعیف ہوتی ہے، جب تک کوئی دوسری قوی متابعت یا شواہد موجود نہ ہوں۔
➤ مسئلہ نمبر ➋: إسماعيل بن عياش کی ابن جریج سے روایت
➔ اسماعیل بن عیاش (وفات: 181ھ) کے بارے میں محدثین کا قاعدہ ہے:
"جب وہ شامیوں سے روایت کرتے ہیں تو ثقہ ہوتے ہیں۔
لیکن جب وہ حجازیوں، عراقیوں یا دیگر غیر شامیوں (جیسے ابن جریج، جو مکی ہیں) سے روایت کرتے ہیں تو ضعیف ہو جاتے ہیں۔"
➔ امام احمد بن حنبل نے فرمایا:
إذا حدّث عن أهل بلده فصحيح، وإذا حدّث عن غيرهم ففيه لين.
(الجرح والتعديل لابن أبي حاتم 2/129)
➔ اور ابن معین نے کہا:
إذا روى عن أهل الشام فهو ثقة، وإذا روى عن أهل الحجاز فهو ضعيف.
(ميزان الاعتدال 1/274)
➤ تطبیق یہاں:
ابن جریج، یعنی عبد الملک بن عبد العزیز بن جریج مکی (یعنی حجازی) راوی ہیں۔
اسماعیل بن عیاش ان سے روایت کر رہے ہیں۔
لہٰذا یہ روایت بھی ضعیف ہو جاتی ہے، کیونکہ اسماعیل بن عیاش کی حجازیوں سے روایت ضعیف ہے۔

الحكم على الحديث: إسناده ضعيف

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمر بن الخطاب العدوي، أبو حفصصحابي