الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
سنن سعید بن منصور سے متعلقہ
تمام کتب
ترقیم شرکۃ الحروف
ترقيم دار السلفیہ
عربی
اردو
1. فضائل القرآن
قرآن کے فضائل
ترقیم دار السلفیہ: 52 ترقیم شرکۃ الحروف: -- 52
نَا أَبُو الأَحْوَصِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ مَسْرُوقٍ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، لِعَبْدِ اللَّهِ : " اقْرَأْ"، فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، كَيْفَ أَقْرَأُ عَلَيَكَ وَعَلَيْكَ أُنْزِلَ؟!، قَالَ:" إِنِّي أُحِبُّ أَنْ أَسْمَعَهُ مِنْ غَيْرِي" وَافْتَتَحَ عَبْدُ اللَّهِ سُورَةَ النِّسَاءِ، وَقَرَأَ حَتَّى بَلَغَ فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا سورة النساء آية 41، ذَرَفَتْ عَيْنَاهُ، وَقَالَ:" حَسْبُكَ" .
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا: ”قرآن پڑھو!“ میں نے عرض کیا: یا رسول اللہ! میں آپ پر کیسے قرآن پڑھوں، حالانکہ یہ تو آپ پر نازل ہوا ہے؟! آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں اسے دوسروں سے سننا پسند کرتا ہوں!“ چنانچہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورہ النساء کی تلاوت شروع کی اور جب اس آیت پر پہنچے: ﴿فَكَيْفَ إِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ أُمَّةٍ بِشَهِيدٍ وَجِئْنَا بِكَ عَلَى هَؤُلاءِ شَهِيدًا﴾ [النساء: 41] (ترجمہ: ”پھر اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور آپ کو ان سب پر گواہ بنا کر لائیں گے؟“) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی آنکھوں سے آنسو بہنے لگے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بس کرو!“ [سنن سعید بن منصور/كتاب التفسير/حدیث: 52]
تخریج الحدیث: «انفرد به المصنف من هذا الطريق»
الحكم على الحديث: الحديث سنده ضعيف للانقطاع بين أبي الضحى مسلم بن صبيح وبين ابن مسعود
الرواة الحديث:
مسلم بن صبيح الهمداني ← عبد الله بن مسعود