صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
8. باب فضل الوضوء - ذكر البيان بأن الله جل وعلا إنما يغفر ذنوب المتوضئ التي ذكرناها إذا كان مجتنبا للكبائر دون من لم يجتنبها
وضو کی فضیلت کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اللہ جل وعلا اس شخص کے گناہ معاف کرتا ہے جو ہم نے ذکر کیے، بشرطیکہ وہ کبائر سے اجتناب کرے، نہ کہ وہ جو کبائر سے اجتناب نہ کرے
حدیث نمبر: 1044
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ ، حَدَّثَنِي أَبِي ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ عُثْمَانَ بْنِ عَفَّانَ ، فَدَعَا بِطَهُورٍ، فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " مَا مِنِ امْرِئٍ مُسْلِمٍ تَحْضُرُهُ الصَّلاةُ الْمَكْتُوبَةُ فَيُحْسِنُ وُضُوءَهَا وَرُكُوعَهَا وَخُشُوعَهَا، إِلا كَانَتْ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهَا مِنَ الذُّنُوبِ، مَا لَمْ يَأْتِ كَبِيرَةً، وَذَلِكَ الدَّهْرَ كُلَّهُ" .
اسحاق بن سعید اپنے والد کے حوالے سے اپنے دادا کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ ایک مرتبہ میں سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھا۔ انہوں نے وضو کے لئے پانی منگوایا پھر یہ بات بتائی میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ بات ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے: ”جس بھی مسلمان کے سامنے فرض نماز کا وقت ہو جاتا ہے، اور وہ اچھی طرح وضو کرے اچھی طرح رکوع اچھی طرح خشوع (کے ساتھ) نماز ادا کرے، تو یہ نماز اس کے پہلے گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہے، جبکہ اس نے گناہ کبیرہ کا ارتکاب نہ کیا ہو اور یہ (فضیلت) ہمیشہ حاصل ہوتی ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1044]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1041»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - مضى نحوه (1038). تنبيه!! رقم (1038) = (1041) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
عمرو بن سعيد القرشي ← عثمان بن عفان