صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
46. ذكر الإخبار عما يجب على المرء من ترك التكلف في دين الله بما تنكب عنه وأغضي عن إبدائه-
- اس بات کا ذکر کہ انسان پر لازم ہے کہ دین میں تکلف کو ترک کرے اور ان چیزوں سے دور رہے جنہیں بیان کرنے سے شریعت نے روکا ہے۔
حدیث نمبر: 110
أَخْبَرَنَا ابْنُ سَلْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِبْرَاهِيَمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ بَكْرٍ ، عَنِ الأَوْزَاعِيِّ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَامِرُ بْنُ سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ ، عَنْ أبيه ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" إِنَّ أَعْظَمَ النَّاسِ فِي الْمُسْلِمِينَ جُرْمًا، مَنْ سَأَلَ عَنْ مَسْأَلَةٍ لَمْ تُحَرَّمْ، فَحُرِّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ مِنْ أَجْلِ مَسْأَلَتِهِ" .
عامر بن سعد بن ابی وقاص اپنے والد رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”مسلمانوں میں سب سے بڑا جرم اس شخص کا ہے جو کسی ایسی چیز کے بارے میں دریافت کرے جسے حرام قرار نہ دیا گیا ہو، اور پھر اس شخص کے دریافت کرنے کی وجہ سے اسے مسلمانوں کے لیے حرام قرار دے دیا جائے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب العلم/حدیث: 110]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 7289، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 2358، وابن الجارود فى "المنتقى"، 950، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 110، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4610، وأحمد فى (مسنده) برقم: 1539، 1564، والحميدي فى (مسنده) برقم: 67، وأبو يعلى فى (مسنده) برقم: 761»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3276): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط البخاري.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 110 in Urdu
عامر بن سعد القرشي ← سعد بن أبي وقاص الزهري