صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
65. باب نواقض الوضوء - ذكر الأمر بالوضوء من المذي وضوء الصلاة
وضو کو توڑنے والی چیزوں کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ مذی سے وضو کیا جائے جو نماز کے لیے ہے
حدیث نمبر: 1101
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ يَسَارٍ ، عَنِ الْمِقْدَادِ بْنِ الأَسْوَدِ ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ أَمَرَهُ أَنْ يَسْأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الرَّجُلِ إِذَا دَنَا مِنْ أَهْلِهِ مَاذَا عَلَيْهِ؟ فَإِنْ عِنْدِي ابْنَتَهُ وَأَنَا أَسْتَحْيِي أَنْ أَسْأَلَهُ، قَالَ الْمِقْدَادُ: فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " إِذَا وَجَدَ ذَلِكَ، فَلْيَنْضَحْ فَرْجَهُ، وَلْيَتَوَضَّأْ وُضُوءَهُ لِلصَّلاةِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: مَاتَ الْمِقْدَادُ بْنُ الأَسْوَدِ بِالْجُرُفِ سَنَةَ ثَلاثٍ وَثَلاثِينَ. وَمَاتَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ سَنَةَ أَرْبَعٍ وَتِسْعِينَ، وَقَدْ سَمِعَ سُلَيْمَانُ بْنُ يَسَارٍ الْمِقْدَادَ وَهُوَ ابْنُ دُونِ عَشْرِ سِنِينَ.
سیدنا مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ نے انہیں ہدایت کی کہ وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایسے شخص کے بارے میں دریافت کریں کہ جب وہ اپنی بیوی کے قریب ہوتا ہے (تو اس کی مذی خارج ہو جاتی ہے) تو ایسے شخص پر کیا بات لازم ہو گی (سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے وضاحت کی)، کیونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی صاحب زادی میری اہلیہ ہے۔ اس لئے مجھے خود ان سے حیا آتی ہے۔ سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا، تو آپ نے ارشاد فرمایا: جب وہ شخص اس طرح کی صورت حال پائے، تو اپنی شرم گاہ پر پانی چھٹرک لے اور نماز کے وضو کی طرح وضو کر لے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ بن اسود رضی اللہ عنہ کا انتقال 33 ہجری میں ہوا جبکہ سلیمان بن یسار کا انتقال 90 ہجری میں ہوا جس وقت سلیمان بن یسار نے سیدنا مقداد رضی اللہ عنہ سے احادیث کا سماع کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمر 10 سال سے کم تھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1101]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1098»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (202).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
رجاله ثقات إلا أن في السند انقطاعاً سقط منه ابن عباس، لأن سليمان بن يسار لم يسمع من المقداد ولا من علي.
الرواة الحديث:
سليمان بن يسار الهلالي ← المقداد بن الأسود الكندي