صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
130. باب الغسل - ذكر البيان بأن الفرض في أول الإسلام كان عند الإكسال غسل ما مس المرأة منه ثم الوضوء للصلاة دون الاغتسال
غسل کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ اسلام کے ابتدائی دور میں فرض یہ تھا کہ اکسال کے وقت اس چیز کو دھویا جائے جو عورت سے ملی، پھر نماز کے لیے وضو کیا جائے، نہ کہ غسل
حدیث نمبر: 1169
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو خَيْثَمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبِي ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أُبَيُّ بْنُ كَعْبٍ ، قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الرَّجُلُ يَأْتِي الْمَرْأَةَ فَلا يُنْزِلُ؟ قَالَ:" يَغْسِلُ مَا مَسَّ الْمَرْأَةَ مِنْهُ، وَيَتَوَضَّأُ وَيُصَلِّي" .
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے مجھے یہ بات بتائی ہے وہ کہتے ہیں میں نے عرض کی: یا رسول اللہ! ایک شخص اپنی بیوی کے پاس آتا ہے (یعنی اس کے ساتھ صحبت کرتا ہے) اور اس شخص کو انزال نہیں ہوتا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: عورت کی جو رطوبت اسے لگی ہے وہ اسے دھو لے اور وضو کر کے نماز ادا کر لے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1169]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1166»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، على شرطهما.
الرواة الحديث:
أبو أيوب الأنصاري ← أبي بن كعب الأنصاري