صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
150. باب الغسل - ذكر وصف الاغتسال من الجنابة للجنب إذا أراده
غسل کا بیان - جنابت سے غسل کی حالت کا ذکر جب جنب اس کا ارادہ کرے
حدیث نمبر: 1191
أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الأَزْدِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّنَافِسِيُّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ السَّائِبِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: وَصَفَتْ عَائِشَةُ غُسْلَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْجَنَابَةِ، قَالَتْ:" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَغْسِلُ يَدَيْهِ ثَلاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ بِيَدِهِ الْيُمْنَى عَلَى الْيُسْرَى، فَيَغْسِلُ فَرْجَهُ وَمَا أَصَابَهُ، ثُمَّ يُمَضْمِضُ وَيَسْتَنْشِقُ ثَلاثًا، وَيَغْسِلُ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ ثَلاثًا ثَلاثًا، ثُمَّ يُفِيضُ عَلَى رَأْسِهِ ثَلاثًا، ثُمَّ يَصُبُّ عَلَيْهِ الْمَاءَ" .
ابوسلمہ بن عبدالرحمن بیان کرتے ہیں کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے غسل جنابت کا طریقہ بیان کیا، وہ بیان کرتی ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے دونوں ہاتھ تین مرتبہ دھوتے تھے، اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے اپنے بائیں ہاتھ پر پانی بہاتے تھے اور اپنی شرم گاہ پر لگی چیز کو دھوتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم تین مرتبہ کلی کرتے تھے، ناک میں پانی ڈالتے تھے، پھر اپنے بازوؤں اور چہرے کو تین تین مرتبہ دھوتے تھے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے سر پر پانی بہاتے تھے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے پورے جسم پر پانی بہا لیتے تھے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1191]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 248، 251، 258، 262، 272، 277، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 316، ومالك فى (الموطأ) برقم: 138، وابن الجارود فى "المنتقى"، 109، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 242، 245، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1191، 1196، 1197، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 227، وأبو داود فى (سننه) برقم: 240، 242، 243، 253، والترمذي فى (جامعه) برقم: 104، والدارقطني فى (سننه) برقم: 402، وأحمد فى (مسنده) برقم: 24895» «رقم طبعة با وزير 1188»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن النسائي» (237 و 240): م (1/ 274).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
عطاء بن السائب: قد اختلط، وعمر بن عبيد سمع منه بعد الاختلاط إلا أنه قد توبع عليه كما يأتي، فهو صحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1191 in Urdu
أبو سلمة بن عبد الرحمن الزهري ← عائشة بنت أبي بكر الصديق