🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
236. باب جلود الميتة - ذكر لفظة أوهمت عالما من الناس أن هذا الخبر مرسل ليس بمتصل
مردار کے چمڑے کے احکام کا بیان - اس لفظ کا ذکر جو بعض عالموں کو یہ وہم دلاتا ہے کہ یہ خبر مرسل ہے، متصل نہیں
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1279
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْقَطَّانُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا صَدَقَةُ بْنُ خَالِدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُخَيْمِرَةَ ، عَنِ الْحَكَمِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَشْيَخَةٌ لَنَا مِنْ جُهَيْنَةَ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَتَبَ إِلَيْهِمْ:" أَنْ لا تَسْتَمْتِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِشَيْءٍ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: هَذِهِ اللَّفْظَةُ، حَدَّثَنَا مَشْيَخَةٌ لَنَا مِنْ جُهَيْنَةَ، أَوْهَمَتْ عَالِمًا مِنَ النَّاسِ أَنَّ الْخَبَرَ لَيْسَ بِمُتَّصِلٍ، وَهَذَا مِمَّا نَقُولُ فِي كُتُبِنَا: إِنَّ الصَّحَابِيَّ قَدْ يَشْهَدُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَسْمَعُ مِنْهُ شَيْئًا، ثُمَّ يَسْمَعُ ذَلِكَ الشَّيْءَ عَنْ مَنْ هُوَ أَعْظَمُ خَطَرًا مِنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَرَّةً يُخْبِرُ عَمَّا شَاهَدَ، وَأُخْرَى يَرْوِي عَمَّنْ سَمِعَ، أَلا تَرَى أَنَّ ابْنَ عُمَرَ شَهِدَ سُؤَالَ جِبْرِيلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الإِيمَانِ، وَسَمِعَهُ عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ؟ فَمَرَّةً أَخْبَرَ بِمَا شَاهَدَ، وَمَرَّةً رَوَى عَنْ أَبِيهِ مَا سَمِعَ، فَكَذَلِكَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُكَيْمٍ شَهِدَ كِتَابَ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَيْثُ قُرِئَ عَلَيْهِمْ فِي جُهَيْنَةَ، وَسَمِعَ مَشَايِخَ جُهَيْنَةَ يَقُولُونَ ذَلِكَ، فَأَدَّى مَرَّةً مَا شَهِدَ، وَأُخْرَى مَا سَمِعَ، مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ فِي الْخَبَرِ انْقِطَاعٌ، وَمَعْنَى خَبَرِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُكَيْمٍ: أَنْ لا تَنْتَفِعُوا مِنَ الْمَيْتَةِ بِإِهَابٍ، وَلا عَصَبٍ يُرِيدُ بِهِ قَبْلَ الدِّبَاغِ، وَالدَّلِيلُ عَلَى صِحَّتِهِ قَوْلُهُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَيُّمَا إِهَابٍ دُبِغَ فَقَدْ طَهُرَ".
سیدنا عبدالله بن عکیم رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جہینہ سے تعلق رکھنے والے ہمارے بزرگوں نے یہ بات ہمیں بتائی ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان لوگوں کو خط میں یہ تحریر کیا تھا۔ تم لوگ مردار کی کسی بھی چیز سے فائدہ حاصل نہ کرو۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) روایت میں یہ الفاظ کہ جہینہ قبیلے سے تعلق رکھنے والے ہمارے بزرگوں نے یہ بات بتائی ہے۔ اس نے بہت سے لوگوں کو اس غلط فہمی کا شکار کیا ہے کہ یہ روایت متصل نہیں ہے، جبکہ ہم اپنی کتابوں میں یہ بات بیان کر چکے ہیں کہ بعض اوقات صحابہ کرام، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی موجودگی میں بھی آپ کی زبانی کوئی بات سنتے ہیں اور پھر وہ اسی بات کو ایسے شخص کے حوالے سے سن لیتے ہیں جو اس صحابی سے زیادہ مرتبے کا مالک ہوتا ہے اور اس کے حوالے سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سنتے ہیں، تو بعض اوقات وہ ایسی روایت نقل کرتے ہیں جس میں وہ خود موجود تھے اور بعض اوقات وہ اس شخص کے حوالے سے روایت نقل کرتے ہیں جس سے انہوں نے سنا تھا، کیا آپ نے غور کیا کہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بھی اس وقت موجود تھے جب سیدنا جبرائیل نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایمان کے بارے میں سوال کیا تھا۔ سیدنا عبداللہ بن عمر نے یہ روایت سیدنا عمر بن خطاب سے بھی سنی ہے، تو ایک مرتبہ انہوں نے وہ روایت بیان کی جس میں وہ خود موجود تھے۔ ایک مرتبہ انہوں نے اسے اپنے والد کے حوالے سے سنی ہوئی روایت کے طور پر بیان کر دیا۔ اسی طرح عبداللہ بن عکیم بھی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس خط کے وقت موجود تھے جہینہ قبیلے میں ان لوگوں کے سامنے اس خط کو پڑھا گیا تھا اور انہوں نے جہینہ قبیلے کے مشائخ کو بھی یہ بات ذکر کرتے ہوئے سنا تو ایک مرتبہ انہوں نے وہ روایت نقل کر دی جس میں وہ موجود تھے اور ایک مرتبہ وہ کر دی جس کو انہوں نے سنا تھا تو اب اس روایت میں کوئی انقطاع نہیں ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عکیم کی نقل کردہ روایت کے یہ الفاظ تم مردار کی کھال یا پٹھے سے نفع حاصل نہ کرو اس سے یہ مراد ہے کہ تم دباغت سے پہلے ایسا نہ کرو۔ اس بات کے صحیح ہونے کی دلیل نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ہے: جس بھی کھال کی دباغت کر لی جائے وہ پاک ہو جاتی ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1279]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1276»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3133).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح، وأشياخ جهينة صحابة، فلا تضر جهالتهم.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥اسم مبهم0
👤←👥عبد الله بن عكيم الجهني، أبو معبد
Newعبد الله بن عكيم الجهني ← اسم مبهم
صحابي صغير
👤←👥عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري، أبو عيسى
Newعبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري ← عبد الله بن عكيم الجهني
ثقة
👤←👥الحكم بن عتيبة الكندي، أبو محمد، أبو عبد الله، أبو عمر
Newالحكم بن عتيبة الكندي ← عبد الرحمن بن أبي ليلى الأنصاري
ثقة ثبت
👤←👥القاسم بن مخيمرة الهمداني، أبو عروة
Newالقاسم بن مخيمرة الهمداني ← الحكم بن عتيبة الكندي
ثقة
👤←👥يزيد بن أبي مريم الأنصاري، أبو عبد الله
Newيزيد بن أبي مريم الأنصاري ← القاسم بن مخيمرة الهمداني
ثقة
👤←👥صدقة بن خالد القرشي، أبو العباس
Newصدقة بن خالد القرشي ← يزيد بن أبي مريم الأنصاري
ثقة
👤←👥هشام بن عمار السلمي، أبو الوليد
Newهشام بن عمار السلمي ← صدقة بن خالد القرشي
صدوق جهمي كبر فصار يتلقن
👤←👥الحسين بن عبد الله الرقي، أبو علي
Newالحسين بن عبد الله الرقي ← هشام بن عمار السلمي
ثقة