🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
257. باب التيمم - ذكر البيان بأن التيمم بالكحل والزرنيخ وما أشبههما دون الصعيد الذي هو التراب وحده غير جائز
تیمم کا بیان - اس بیان کا ذکر کہ کحل، زرنیخ اور اس جیسی چیزوں سے تیمم جائز نہیں، صرف مٹی سے جو کہ صعید ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1302
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَوْفٌ ، قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو رَجَاءٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عِمْرَانُ بْنُ حُصَيْنٍ ، قَالَ:" كُنَّا فِي سَفَرٍ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي آخِرِ اللَّيْلِ، وَقَعْنَا تِلْكَ الْوَقْعَةَ وَلا وَقْعَةَ أَحْلَى عِنْدَ الْمُسَافِرِ مِنْهَا، فَمَا أَيْقَظَنَا إِلا حَرُّ الشَّمْسِ، فَاسْتَيْقَظَ فُلانٌ وَفُلانٌ وَكَانَ يُسَمِّيهِمْ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُمْ عَوْفٌ، ثُمَّ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ الرَّابِعُ، وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا نَامَ لَمْ يُوقَظْ حَتَّى يَكُونَ هُوَ يَسْتَيْقِظُ، لأَنَّا لا نَدْرِي مَا يَحْدُثُ لَهُ فِي النَّوْمِ، فَلَمْا اسْتَيْقَظَ عُمَرُ رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ وَرَأَى مَا أَصَابَ النَّاسَ، وَكَانَ رَجُلا جَلِيدًا، فَكَبَّرَ وَرَفَعَ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ، فَمَا زَالَ يُكَبِّرُ وَيَرْفَعُ صَوْتَهُ بِالتَّكْبِيرِ حَتَّى اسْتَيْقَظَ بِصَوْتِهِ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَلَمْا اسْتَيْقَظَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَكَوْا إِلَيْهِ الَّذِي أَصَابَهُمْ، فَقَالَ: لا يَضِيرُ، فَارْتَحِلُوا، وَارْتَحَلَ، فَسَارَ غَيْرَ بَعِيدٍ، ثُمَّ نَزَلَ فَدَعَا بِالْوَضُوءِ فَتَوَضَّأَ، فَنُودِيَ بِالصَّلاةِ فَصَلَّى بِالنَّاسِ، فَلَمْا انْفَتَلَ مِنْ صَلاتِهِ، فَإِذَا هُوَ بِرَجُلٍ مُعْتَزِلٍ لَمْ يُصَلِّ مَعَ الْقَوْمِ، فَقَالَ: مَا مَنَعَكَ يَا فُلانُ أَنْ تُصَلِّيَ مَعَ الْقَوْمِ؟ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَصَابَتْنِي جَنَابَةٌ، وَلا مَاءَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عَلَيْكَ بِالصَّعِيدِ فَإِنَّهُ يَكْفِيكَ"، ثُمَّ سَارَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَشَكَا النَّاسُ إِلَيْهِ الْعَطَشَ، فَنَزَلَ فَدَعَا فُلانًا وَكَانَ يُسَمِّيهِ أَبُو رَجَاءٍ وَنَسِيَهُ عَوْفٌ، وَدَعَا عَلِيًّا رِضْوَانُ اللَّهِ عَلَيْهِ، وَقَالَ: اذْهَبَا فَأَتَيَا بِالْمَاءِ، فَانْطَلَقَا امْرَأَةٌ بَيْنَ مَزَادَتَيْنِ، أَوْ سَطِيحَتَيْنِ مِنْ مَاءٍ عَلَى بَعِيرٍ لَهَا، وَقَالا لَهَا: أَيْنَ الْمَاءُ؟ فَقَالَتْ: عَهْدِي بِالْمَاءِ أَمْسِ هَذِهِ السَّاعَةَ، وَنَفَرُنَا خُلُوفٌ، قَالا لَهَا: انْطَلِقِي، قَالَتْ: إِلَى أَيْنَ؟ قَالا: إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَتْ: هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي؟ قَالا: هُوَ الَّذِي تَعْنِينَ، فَانْطَلِقِي، وَجَاءَا بِهَا إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَاسْتَنْزَلُوهَا عَنْ بَعِيرِهَا، وَدَعَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِإِنَاءٍ، فَأَفْرَغَ فِيهِ مِنْ أَفْوَاهِ الْمَزَادَتَيْنِ، أَوِ السَّطِيحَتَيْنِ، وَأَوْكَأَ أَفْوَاهَهُمَا، وَأَطْلَقَ الْعَزَالِي، وَنُودِيَ فِي النَّاسِ: أَنِ اسْتَقُوا وَاسْقُوا، قَالَ: فَسَقَى مَنْ شَاءَ، وَاسْتَسْقَى مَنْ شَاءَ، وَكَانَ آخِرُ ذَلِكَ أَنْ أَعْطَى الَّذِي أَصَابَتْهُ الْجَنَابَةُ إِنَاءً مِنْ مَاءٍ، فَقَالَ:" اذْهَبْ فَأَفْرِغْهُ عَلَيْكَ"، قَالَ: وَهِيَ قَائِمَةٌ تَنْظُرُ إِلَى مَا يَفْعَلُ بِمَائِهَا، قَالَ: وَايْمُ اللَّهِ، لَقَدْ أُقْلِعَ عَنْهَا حِينَ أُقْلِعَ، وَإِنَّهُ لَيُخَيَّلُ إِلَيْنَا أَنَّهَا أَشَدُّ مَلْئًا مِنْهَا حِينَ ابْتُدِئَ فِيهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: اجْمَعُوا لَهَا طَعَامًا، فَجَمَعَ لَهَا مِنْ تَمْرٍ وَعَجْوَةٍ وَدَقِيقَةٍ وَسَوِيقَةٍ، حَتَّى جَمَعُوا لَهَا طَعَامًا كَثِيرًا، وَجَعَلُوهُ فِي ثَوْبٍ وَحَمَلُوهَا عَلَى بَعِيرِهَا، وَوَضَعُوا الثَّوْبَ الَّذِي فِيهِ الطَّعَامُ بَيْنَ يَدَيْهَا، فَقَالَ لَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: تَعْلَمْينَ وَاللَّهِ مَا رَزَأْنَا مِنْ مَائِكِ شَيْئًا، وَلَكِنَّ اللَّهَ هُوَ الَّذِي سَقَانَا، فَأَتَتْ أَهْلَهَا وَقَدِ احْتَبَسَتْ عَنْهُمْ، قَالُوا: مَا حَبَسَكِ يَا فُلانَةُ؟ قَالَتِ: الْعَجَبُ، لَقِيَنِي رَجُلانِ، فَذَهَبَا بِي إِلَى هَذَا الَّذِي يُقَالُ لَهُ: الصَّابِي، فَفَعَلَ بِي كَذَا وَكَذَا الَّذِي قَدْ كَانَ وَاللَّهِ إِنَّهُ لأَسْحَرُ مَنْ بَيْنَ هَذِهِ وَهَذِهِ، وَقَالَتْ: بِأُصْبُعَيْهَا السَّبَّابَةُ الْوُسْطَى، فَرَفَعَتْهُمَا إِلَى السَّمَاءِ وَالأَرْضِ، أَوْ إِنَّهُ لَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَقًّا، فَكَانَ الْمُسْلِمُونَ بَعْدُ يُغِيرُونَ عَلَى مَنْ حَوْلَهَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، وَلا يُصِيبُونَ الصِّرْمَ الَّذِي هِيَ فِيهِمْ، قَالَتْ يَوْمًا لِقَوْمِهَا: مَا أَرَى هَؤُلاءِ الْقَوْمُ يَدَعُونَكُمْ إِلا عَمْدًا، فَهَلْ لَكُمْ فِي الإِسْلامِ؟ فَأَطَاعُوهَا فَدَخَلُوا فِي الإِسْلامِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: أَبُو رَجَاءٍ الْعُطَارِدِيُّ عِمْرَانُ بْنُ تَيْمٍ، مَاتَ وَهُوَ ابْنُ مِائَةٍ وَعِشْرِينَ سَنَةً.
سیدنا عمران بن حصین رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: ہم لوگ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ سفر کر رہے تھے۔ جب رات کا آخری حصہ آیا تو ہمیں نیند آ گئی اور مسافر کے نزدیک نیند سے زیادہ پیاری کوئی اور چیز نہیں ہوتی۔ ہمیں سورج کی تپش نے بیدار کیا، فلاں، فلاں اور فلاں بیدار ہوئے—ابورجاء نامی راوی نے ان کا نام بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی ان کا نام بھول گئے—پھر چوتھے بیدار ہونے والے شخص سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب سویا کرتے تھے، تو آپ کو بیدار نہیں کیا جاتا تھا، یہاں تک کہ آپ خود ہی بیدار ہوتے تھے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم یہ نہیں جان سکتے تھے کہ نیند کے دوران آپ کے ساتھ کیا صورت حال پیش آ رہی ہے۔ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ بیدار ہوئے اور انہوں نے وہ چیز دیکھی جو لوگوں کو پیش آئی ہے، وہ بلند آواز کے مالک تھے۔ انہوں نے تکبیر کہی اور تکبیر کہتے ہوئے آواز کو بلند کیا۔ وہ مسلسل تکبیر کہتے رہے اور بلند آواز میں تکبیر کہتے رہے یہاں تک کہ ان کی آواز کی وجہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہو گئے۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بیدار ہوئے، تو لوگوں نے پیش آنے والی صورت حال کی شکایت آپ کے سامنے کی، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: کوئی حرج نہیں تم لوگ روانہ ہو جاؤ۔ پھر آپ روانہ ہوئے، تھوڑا آگے جانے کے بعد آپ سواری سے اترے، پھر آپ نے وضو کے لیے پانی منگوایا، وضو کیا اور نماز کے لیے اذان دی گئی۔ آپ نے لوگوں کو نماز پڑھائی۔ جب آپ لوگوں کو نماز پڑھا کر فارغ ہوئے، تو ایک شخص الگ موجود تھا، جس نے لوگوں کے ساتھ نماز ادا نہیں کی تھی۔ آپ نے دریافت کیا: اے فلاں! کیا بات ہے، تم نے لوگوں کے ساتھ نماز نہیں ادا کی؟ اس نے کہا: یا رسول اللہ! مجھے جنابت لاحق ہو گئی تھی، اور پانی موجود نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم پر مٹی استعمال کرنا لازم ہے، وہ تمہارے لیے کفایت کرے گی۔ پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہوئے، لوگوں نے آپ کی خدمت میں پیاسے ہونے کی شکایت کی، تو آپ سواری سے نیچے اترے اور فلاں کو بلایا—رجاء نامی راوی نے ان کا نام بیان کیا تھا لیکن عوف نامی راوی اسے بھول گئے—راوی بیان کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو بھی بلایا اور فرمایا: تم دونوں جاؤ اور پانی لے کر آؤ۔ دونوں حضرات رضی اللہ عنہما روانہ ہوئے، ان کا سامنا ایک عورت سے ہوا جو اپنے اونٹ پر دو مشکیزوں کے درمیان سوار تھی (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے)۔ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے اس سے دریافت کیا: پانی کہاں ہے؟ اس نے جواب دیا: گزشتہ دن اسی وقت میں پانی کے پاس موجود تھی، ہمارے قبیلے کے مرد موجود نہیں ہیں (اس لیے میں اتنی دور سے پانی لے کر آئی ہوں)۔ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے اس سے کہا: تم چلو! اس نے دریافت کیا: کہاں؟ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: اللہ کے رسول کی طرف۔ اس نے دریافت کیا: کیا یہ وہی صاحب ہیں، جن کے بارے میں یہ کہا جاتا ہے کہ وہ بے دین ہیں؟ ان دونوں حضرات رضی اللہ عنہما نے جواب دیا: یہ وہی ہیں، جو تم مراد لے رہی ہو، تم چلو۔ یہ دونوں حضرات رضی اللہ عنہما اس عورت کو لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے۔ لوگوں نے اس عورت کو اس کے اونٹ سے نیچے اتارا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک برتن منگوایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مشکیزوں کے منہ سے پانی انڈیلا (یہاں ایک لفظ کے بارے میں راوی کو شک ہے) پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے منہ کو بند کر دیا اور ان کے نیچے والے سوراخ کھول دیے۔ لوگوں میں اعلان کر دیا گیا کہ وہ پانی حاصل کر لیں اور (جانوروں وغیرہ کو بھی) پانی پلائیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر جس نے چاہا اس نے پلایا اور جس نے چاہا پانی پی لیا، سب سے آخر میں اس شخص کو پانی دیا گیا جسے جنابت لاحق ہوئی تھی۔ پانی کا برتن دیا گیا، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم جاؤ اور اسے اپنے اوپر بہا لو۔ راوی بیان کرتے ہیں: وہ عورت کھڑی دیکھتی رہی کہ اس کے پانی کے ساتھ کیا ہو رہا ہے۔ راوی بیان کرتے ہیں: اللہ کی قسم! اس میں سے جتنا بھی پانی نکلا، اس کے بعد بھی ہمیں یوں محسوس ہوا تھا شاید وہ مشکیزے پہلے سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اس عورت کے لیے کھانے کا سامان اکٹھا کرو۔ تو اس عورت کے لیے عجوہ کھجوریں، آٹا اور ستو اکٹھے کیے گئے، یہاں تک کہ لوگوں نے اس کے لیے بہت سا اناج اکٹھا کر لیا۔ لوگوں نے اسے ایک کپڑے میں رکھا اور اس عورت کو اس کے اونٹ پر سوار کر کے وہ تھیلا اس کے آگے رکھ دیا جس میں اناج موجود تھا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس عورت سے فرمایا: تم یہ بات جانتی ہو، اللہ کی قسم! ہم نے تمہارے پانی میں کوئی کمی نہیں کی لیکن اللہ تعالیٰ نے ہمیں سیراب کیا ہے۔ پھر وہ عورت اپنے اہل خانہ کے پاس آئی، وہ تاخیر سے ان کے پاس پہنچی تھی، تو ان لوگوں نے دریافت کیا: اے فلانہ! تمہیں کس چیز نے روک لیا تھا؟ وہ بولی: بڑی حیران کن بات ہے، مجھے دو آدمی ملے، وہ مجھے ساتھ لے گئے اور ان صاحب کے پاس لے گئے جنہیں بے دین کہا جاتا ہے، پھر انہوں نے میرے ساتھ اس اس طرح کا سلوک کیا، یعنی جو کچھ ہوا تھا (اس کو اس نے بیان کیا)۔ اللہ کی قسم! یہاں سے لے کر یہاں تک کے درمیان موجود اس جگہ میں وہ سب سے بڑے جادوگر ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس عورت نے اپنی شہادت کی انگلی اور درمیانی انگلی کو پہلے آسمان کی طرف اٹھایا، پھر زمین کی طرف کیا (اور یہ بات کہی) یا پھر وہ واقعی اللہ کے سچے رسول ہیں۔ راوی بیان کرتے ہیں: اس کے بعد مسلمانوں نے اس کے آس پاس کے علاقوں میں موجود مشرکین پر حملے کیے لیکن اس بستی پر حملہ نہیں کیا جہاں وہ عورت رہتی تھی۔ ایک دن اس عورت نے اپنی قوم سے کہا: میرا یہ خیال ہے کہ یہ لوگ تم لوگوں کو جان بوجھ کر چھوڑ رہے ہیں، تو کیا تم لوگ اسلام میں دلچسپی رکھتے ہو؟ تو لوگوں نے اس کی بات مان لی اور اسلام میں داخل ہو گئے۔ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: ابورجاء عطاردی کا نام عمران بن تیم ہے، ان کا انتقال 120 سال کی عمر میں ہوا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1302]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 344، 348، 3571، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 682، وابن الجارود فى "المنتقى"، 136، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 113، 271، 987، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1301، 1302، 1461، 2650، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 1021، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 320، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 306، وأبو داود فى (سننه) برقم: 443، والدارقطني فى (سننه) برقم: 771، وأحمد فى (مسنده) برقم: 20189» «رقم طبعة با وزير 1299»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: ق - المصدر نفسه.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما سوى مسدد، فإنه من رجال البخاري.


الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عمران بن حصين الأزدي، أبو نجيدصحابي
👤←👥عمران بن ملحان العطاردي، أبو رجاء
Newعمران بن ملحان العطاردي ← عمران بن حصين الأزدي
ثقة
👤←👥عوف بن أبي جميلة الأعرابي، أبو سهل
Newعوف بن أبي جميلة الأعرابي ← عمران بن ملحان العطاردي
صدوق رمي بالقدر والتشيع
👤←👥يحيى بن سعيد القطان، أبو سعيد
Newيحيى بن سعيد القطان ← عوف بن أبي جميلة الأعرابي
ثقة متقن حافظ إمام قدوة
👤←👥مسدد بن مسرهد الأسدي، أبو الحسن
Newمسدد بن مسرهد الأسدي ← يحيى بن سعيد القطان
ثقة حافظ
👤←👥الفضل بن الحباب الجمحي، أبو خليفة
Newالفضل بن الحباب الجمحي ← مسدد بن مسرهد الأسدي
ثقة ثبت
Sahih Ibn Hibban Hadith 1302 in Urdu