صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
298. باب المسح على الخفين وغيرهما - ذكر خبر أوهم عالما من الناس أن المسح على العمامة غير جائز
موزوں اور دیگر (جوتوں یا پٹیوں وغیرہ) پر مسح کرنے کا بیان - اس خبر کا ذکر جو بعض عالموں کو یہ وہم دلاتی ہے کہ عمامہ پر مسح کرنا جائز نہیں
حدیث نمبر: 1346
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى الْقَطَّانُ ، عَنِ التَّيْمِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ : أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَفَوْقَ الْعِمَامَةِ" . قَالَ بَكْرٌ: وَسَمِعْتُهُ مِنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: وَهَذِهِ اللَّفْظَةُ وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ وَفَوْقَ الْعِمَامَةِ، قَدْ تُوهِمُ مَنْ لَمْ يُحْكِمْ صِنَاعَةِ الْعِلَمْ أَنَّ الْمَسْحَ عَلَى الْعِمَامَةِ دُونَ النَّاصِيَةِ غَيْرُ جَائِزٍ، وَيَجْعَلُ خَبَرَ عَمْرِو بْنِ أُمَيَّةَ مُجْمَلا، وَخَبَرَ مُغِيرَةَ الَّذِي ذَكَرْنَاهُ مُفَسِّرًا لَهُ، أَنَّ مَسْحَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْعِمَامَةِ كَانَ ذَلِكَ مَعَ النَّاصِيَةِ فَوْقَ الْمَسْحِ عَلَى النَّاصِيَةِ دُونَ الْعِمَامَةِ، إِذِ النَّاصِيَةُ مِنَ الرَّأْسِ، وَلَيْسَ بِحَمْدِ اللَّهِ وَمَنِّهِ كَذَلِكَ، بَلْ مَسَحَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى رَأْسِهِ فِي وَضُوئِهِ، وَمَسَحَ عَلَى عِمَامَتِهِ دُونَ النَّاصِيَةِ، وَمَسَحَ عَلَى نَاصِيَتِهِ وَعِمَامَتِهِ ثَلاثَ مِرَارٍ فِي ثَلاثَةِ مَوَاضِعَ مُخْتَلِفَةٍ، فَكُلٌّ سُنَّةٌ يُسْتَعْمَلُ مِنْ غَيْرِ أَنْ يَكُونَ اسْتِعْمَالُ أَحَدِهِمَا حَتْمًا، وَاسْتِعْمَالُ الآخَرِ مَكْرُوهًا".
سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے وضو کرتے ہوئے اپنی پیشانی اور عمامے پر مسح کیا۔ بکر بن عبداللہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے یہ روایت سیدنا مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے صاحب زادے سے بھی سنی ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ الفاظ ”آپ نے اپنی پیشانی پر اور عمامے پر مسح کیا“ ان الفاظ نے اس شخص کو غلط فہمی کا شکار کر دیا جو علم حدیث میں مہارت نہیں رکھتا اور وہ اس بات کا قائل ہے کہ پیشانی کو چھوڑ کر عمامے پر مسح کر لینا جائز نہیں ہے اس شخص نے عمرو بن امیہ کے حوالے سے منقول روایت کو اس حدیث کی توضیحی روایت قرار دیا ہے۔ یعنی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے عمامے پر پیشانی کے ہمراہ مسح کرنے والی روایت اس روایت پر فوقیت رکھتی ہے جس میں عمامے کے علاوہ پیشانی کا ذکر ہے کیونکہ پیشانی سر کا حصہ ہے۔ حالانکہ اللہ کے فضل و کرم کے تحت ایسا نہیں ہے بلکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے وضو کے دوران اپنے سر پر بھی مسح کیا اور پیشانی کو چھوڑ کر اپنے عمامے پر بھی مسح کیا ہے اور پیشانی اور عمامے دونوں پر بھی مسح کیا ہے، تو یہ تین مختلف مواقع پر تین الگ سے واقعات ہیں ان میں سے ایک سنت پر عمل کیا جائے گا اور ان میں سے کسی ایک سنت کو لازم قرار دیتے ہوئے دوسری پر عمل کو مکروہ قرار نہیں دیا جائے گا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1346]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1343»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (137 - 138): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، التيمي: هو سليمان، وابن المغيرة في هذا الإسناد: حمزة، كما سيجيء مصرحاً به في (1374)، وقد بينه في رواية النسائي 1/ 76، والبيهقي 1/ 58 و 60، وللمغيرة ابنان: حمزة وعروة، وكلاهما ثقة.
الرواة الحديث:
حمزة بن المغيرة الثقفي ← المغيرة بن شعبة الثقفي