صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
314. باب الحيض والاستحاضة - ذكر الأمر بمؤاكلة الحائض ومشاربتها واستخدامها إذ اليهود لا تفعل ذلك
حیض اور استحاضہ کا بیان - اس حکم کا ذکر کہ حائضہ کے ساتھ کھانا پینا اور اسے استعمال کرنا چاہیے، کیونکہ یہود ایسا نہیں کرتے
حدیث نمبر: 1362
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفِيانَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبَانَ الْوَاسِطِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمْةَ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، أَنَّ الْيَهُودَ كَانُوا إِذَا حَاضَتْ بَيْنَهُمُ امْرَأَةٌ أَخْرَجُوهَا مِنَ الْبُيُوتِ، وَلَمْ يَأْكُلُوا مَعَهَا وَلَمْ يُشَارِبُوهَا، وَلَمْ يُجَامِعُوهَا فِي الْبُيُوتِ، فَسُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِكَ، فَأَنْزَلَ اللَّهُ جَلَّ وَعَلا: وَيَسْأَلُونَكَ عَنِ الْمَحِيضِ، قُلْ هُوَ أَذًى، فَاعْتَزِلُوا النِّسَاءَ فِي الْمَحِيضِ سورة البقرة آية 222، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" اصْنَعُوا كُلَّ شَيْءٍ إِلا النِّكَاحَ"، فَقَالَتِ الْيَهُودُ: مَا نَرَى هَذَا الرَّجُلَ يَدَعُ شَيْئًا مِنْ أَمْرِنَا إِلا يُخَالِفُنَا، فَجَاءَ أُسَيْدُ بْنُ حُضَيْرٍ، وَعَبَّادُ بْنُ بِشْرٍ فَقَالا: يَا رَسُولَ اللَّهِ، الْيَهُودُ تَقُولُ كَذَا وَكَذَا، أَفَلا نَنْكِحُهُنَّ فِي الْمَحِيضِ؟ قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى ظَنَنْتُ أَنَّهُ قَدْ وَجَدَ عَلَيْهِمَا، فَخَرَجَا، فَاسْتَقْبَلَتْهُ هَدْيَةٌ مِنْ لَبَنٍ، فَبَعَثَ فِي أَثَرِهِمَا، فَظَنَنَّا أَنَّهُ لَمْ يَجِدْ عَلَيْهِمَا، فَسَقَاهُمَا .
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: یہودیوں کا یہ معمول تھا کہ ان کے درمیان کسی عورت کو حیض آ جاتا تھا، تو وہ اسے اپنے گھر سے نکال دیتے تھے۔ (یعنی اس کے ساتھ کھاتے پیتے نہیں تھے) اور گھروں میں اس کے ساتھ نہیں ٹھہرتے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بارے میں دریافت کیا گیا، تواللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل کی: ”لوگ تم سے حیض کے بارے میں دریافت کرتے ہیں، تو فرما دو! وہ گندگی ہے تم لوگ حیض کے دوران عورتوں سے الگ رہو۔“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: بیوی کے ساتھ صحبت کرنے کے علاوہ تم سب کچھ کر سکتے ہو۔ اس پر یہودیوں نے کہا: ہم نے یہ بات نوٹ کی ہے، یہ صاحب ہمارے معاملے میں ہر بات پر مخالفت کرتے ہیں۔ سیدنا اسید بن حضیر اور عباد بن بشر آئے۔ ان دونوں نے عرض کی: یا رسول اللہ! یہودیوں نے یہ بات کہی ہے، تو کیا ہم حیض کے دوران بیویوں کے ساتھ صحبت بھی نہ کر لیا کریں؟ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ سرخ ہو گیا، یہاں تک کہ ہم نے یہ گمان کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان دونوں پر سخت ناراض ہوئے ہیں۔ یہ دونوں صاحبان چلے گئے پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کے طور پر دودھ پیش کیا گیا، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو بلوایا۔ اس سے ہمیں اندازہ ہوا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ان پر سخت ناراض نہیں ہوئے ہیں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں کو (وہ دودھ پلوا دیا) [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1362]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1359»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (251): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم. محمد بن أبان الواسطي، ذكره المؤلف في "الثقات"، ووثقة مسلمة بن قاسم، وأخرجه البخاري في موضعين في وباقي رجال الإسناد على شرط مسلم. تنبيه هام!! كأن في كلام الشيخ شعيب سقطا إذ قال «وأخرج له البخاري في موضعين في»، ولم يكمل؟! المهم والذي يعنينا هو حال هذا الراوي انظر إلى التعليق: محمد بن أبان الذي أخرج له البخاري في موضعين غير هذا. هذا اسمه: محمد بن أبان بن عمران الواسطي الطحان، قال عنه ابن حجر في «تقريب التهذيب»: «صدوق تكلم فيه الأزدي». أما الآخر الذي أخرج له البخاري في موضعين هو: محمد بن أبان بن وزير البلخي أبو بكر بن أبي إبراهيم المستملي يلقب حمدويه وكان مستملي وكيع، قال عنه ابن حجر في «تقريب التهذيب»: «ثقة حافظ». وهذه المسألة خلافية: هل محمد بن أبان - الذي أخرج له البخاري في صحيحه - هو الواسطي أم البلخي. قال المزي في «تهذيب الكمال»: «وذكر أبو نصر الكلاباذي، وغير واحد أنه محمد بن أبان البلخي. وهو الاشبه». وقال ابن حجر في «تهذيب التهذيب»: «وقال أبو الوليد الباجي الأظهر عندي أن المذكور في الجامع هو الواسطي وهو روى عن البصريين». - ثم تعقبه ابن حجر بقوله -: «وقد روى البلخي عن البصريين أيضا معاذ بن هشام ومن في طبقته وذلك دليل على أنه هو الراوي عن غندر بخلاف الواسطي فان شيوخه من البصريين قدماء». أنتها كلامه. فكما ترى الحافظ يرجح أنه البلخي وليس الواسطي. والبخاري روى له في «باب لا تتحرى الصلاة قبل غروب الشمس» رقم (552) وفي «باب إمامة المفتون والمبتدع وقال الحسن صل وعليه بدعته» رقم (655) كلها، عن شيخه محمد بن جعفر الملقب بـ «غندر».
الرواة الحديث:
اسم الشهرة | الرتبة عند ابن حجر/ذهبي | أحاديث |
|---|---|---|
| 👤←👥أنس بن مالك الأنصاري، أبو حمزة، أبو النضر | صحابي | |
👤←👥ثابت بن أسلم البناني، أبو محمد ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري | ثقة | |
👤←👥حماد بن سلمة البصري، أبو سلمة حماد بن سلمة البصري ← ثابت بن أسلم البناني | تغير حفظه قليلا بآخره، ثقة عابد | |
👤←👥محمد بن أبان الواسطي، أبو الحسن، أبو عبد الله، أبو عمران محمد بن أبان الواسطي ← حماد بن سلمة البصري | صدوق حسن الحديث | |
👤←👥الحسن بن سفيان الشيباني، أبو العباس الحسن بن سفيان الشيباني ← محمد بن أبان الواسطي | ثقة |
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري