صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
366. باب الاستطابة - ذكر الزجر عن استدبار القبلة واستقبالها بالغائط والبول
استنجا (نجاست دور کرنے) کا بیان - اس ممانعت کا ذکر کہ قبلہ کی طرف منہ یا پیٹھ کرنے سے گوبر یا پیشاب کے وقت منع کیا گیا
حدیث نمبر: 1417
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا وُهَيْبٌ ، عَنْ مَعْمَرٍ ، وَالنُّعْمَانِ بْنِ رَاشِدٍ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ أَبِي أَيُّوبَ الأَنْصَارِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: " لا تَسْتَقْبِلُوا الْقِبْلَةَ بِبَوْلٍ، وَلا غَائِطٍ، وَلا تَسْتَدْبِرُوهَا، وَلَكِنْ شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا" ، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَقَدِمْنَا الشَّامَ، فَإِذَا مَرَاحِيضُ قَدْ صُنِعَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ، وَقَالَ النُّعْمَانُ: فَإِذَا مَرَافِيقُ قَدْ صُنِعَتْ نَحْوَ الْقِبْلَةِ، قَالَ أَبُو أَيُّوبَ: فَنَنْحَرِفُ وَنَسْتَغْفِرُ اللَّهَ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: قَوْلَهُ: شَرِّقُوا أَوْ غَرِّبُوا لَفْظَةُ أَمْرٍ تُسْتَعْمَلُ عَلَى عُمُومَةٍ فِي بَعْضِ الأَعْمَالِ، وَقَدْ يَخُصُّهُ خَبَرُ ابْنِ عُمَرَ بِأَنَّ هَذَا الأَمْرَ قُصِدَ بِهِ الصَّحَارِي دُونَ الْكُنُفِ وَالْمَوَاضِعِ الْمَسْتُورَةِ، وَالتَّخْصِيصُ الثَّانِي الَّذِي هُوَ مِنَ الإِجْمَاعِ أَنَّ مَنْ كَانَتْ قِبْلَتُهُ فِي الْمَشْرِقِ أَوْ فِي الْمَغْرِبِ عَلَيْهِ أَنْ لا يَسْتَقْبِلَهَا وَلا يَسْتَدْبِرَهَا بِغَائِطٍ أَوْ بَوْلٍ، لأَنَّهَا قِبْلَتُهُ، وَإِنَّمَا أُمِرَ أَنْ يَسْتَقْبِلَ أَوْ يَسْتَدْبِرَ ضِدَّ الْقِبْلَةِ عِنْدَ الْحَاجَةِ.
سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں: ”پیشاب یا پاخانہ کرتے ہوئے قبلہ کی طرف رخ یا پیٹھ نہ کرو بلکہ (مدینہ منورہ کے حساب سے) مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرو۔“ سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: جب ہم شام آئے، تو وہاں ایسے بیت الخلاء تھے جو قبلہ کی سمت میں بنے ہوئے تھے۔ نعمان نامی راوی نے یہ الفاظ نقل کیے ہیں وہ ایسے بیت الخلاء تھے جو قبلہ کی سمت میں بنے ہوئے تھے سیدنا ابوایوب انصاری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، تو ہم (قبلہ سے) دوسری طرف منہ موڑ لیتے تھے اور اللہ تعالیٰ سے مغفرت طلب کیا کرتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان ”تم مشرق یا مغرب کی طرف رخ کرو“ اس میں لفظی طور پر حکم دیا گیا ہے اور بعض اعمال میں اس کے عموم پر عمل کیا جائے گا، جبکہ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے حوالے سے منقول روایت اس کے حکم کو مخصوص کر دیتی ہے کہ یہ حکم صحرا سے تعلق رکھتا ہے۔ بیت الخلاء یا پوشیدہ مقامات اس حکم میں داخل نہیں ہیں اور دوسری تخصیص وہ ہے، جو اجماع سے ثابت ہوتی ہے کہ جس شخص کا قبلہ مشرق یا مغرب کی سمت ہو اس شخص پر لازم ہے کہ وہ پاخانہ یا پیشاب کرتے ہوئے اس طرف رخ یا پیٹھ نہ کرے کیونکہ وہ اس کا قبلہ ہے اور آدمی کو یہ حکم دیا گیا ہے کہ قضائے حاجت کرتے وقت قبلہ کی بجائے کسی دوسری طرف رخ یا پیٹھ کرے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الطهارة/حدیث: 1417]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 144، 394، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 264، ومالك فى (الموطأ) برقم: 658، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 57، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1416، 1417، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 20، وأبو داود فى (سننه) برقم: 9، والترمذي فى (جامعه) برقم: 8، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 318، والدارقطني فى (سننه) برقم: 170، وأحمد فى (مسنده) برقم: 23997، والحميدي فى (مسنده) برقم: 382» «رقم طبعة با وزير 1414»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - انظر ما قبله.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، وهو مكرر ما قبله.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1417 in Urdu
عطاء بن يزيد الجندعي ← أبو أيوب الأنصاري