صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
27. باب فرض الإيمان-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان -
حدیث نمبر: 156
أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ الشَّيْبَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أُمَيَّةُ بْنُ بِسْطَامٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا رَوْحُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أُمَيَّةَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ صَيْفِيٍّ ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بَعَثَ مُعَ إِلَى الْيَمَنِ، قَالَ: " إِنَّكَ تَقَدْمَ عَلَى قَوْمٍ مِنْ أَهْلِ الْكِتَابِ، فَلْيَكُنْ أَوَّلَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ عِبَادَةُ اللَّهِ، فَعَرَفُوا اللَّهَ فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ خَمْسَ صَلَوَاتٍ فِي يَوْمِهِمْ وَلَيْلَتِهِمْ، وَفَعَلُوهَا فَأَخْبِرْهُمْ أَنَّ اللَّهَ فَرَضَ عَلَيْهِمْ زَكَاةً تُؤْخَذُ مِنْ أَمْوَالِهِمْ، فَتُرَدُّ عَلَى فُقَرَائِهِمْ، فَأَطَاعُوا بِهَذَا فَخُذْ مِنْهُمْ، وَتَوَقَّ كَرَائِمَ أَمْوَالِ النَّاسِ" ، قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ الِلَّهِ عَنْهُ: هَذَا النَّوْعُ مِثْلُ الْحَجِّ وَالزَّكَاةِ وَمَا أَشْبَهَهُمَا مِنَ الْفَرَائِضِ الَّتِي فُرِضَتْ عَلَى بَعْضِ الْعَاقِلِينَ الْبَالِغِينَ فِي بَعْضِ الأَحْوَالِ لا الْكُلِّ.
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ کو یمن بھیجا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”تم اہل کتاب سے تعلق رکھنے والے لوگوں کی طرف جا رہے ہو، تم انہیں سب سے پہلے اللہ کی عبادت کی دعوت دینا، جب وہ اللہ تعالیٰ کی معرفت حاصل کر لیں، تو تم انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر روزانہ پانچ نمازیں فرض کی ہیں، جب وہ ایسا کر لیں، تو انہیں بتانا کہ اللہ تعالیٰ نے ان پر زکاۃ فرض کی ہے، جو ان کے اموال میں سے وصول کی جائے گی اور ان کے غریب لوگوں کی طرف لوٹا دی جائے گی، جب وہ اس حکم کی فرمانبرداری کریں، تو تم ان سے زکاۃ وصول کر لینا اور لوگوں کے عمدہ مال حاصل کرنے سے بچنا۔“ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) یہ قسم جیسے حج اور زکاۃ اور ان جیسے دیگر فرائض (وہ ہیں) جو بعض عاقل و بالغ لوگوں پر بعض مخصوص حالتوں میں فرض قرار دیے گئے ہیں، یہ ہر حال میں فرض نہیں ہیں (یعنی زکاۃ اس پر فرض ہو گی جو صاحب نصاب ہو اور اس نصاب پر ایک سال گزر جائے اور حج اس پر فرض ہو گا جس کے لیے حج کے مخصوص ایام میں مکہ تک جانا ممکن ہو، یہ ہر مسلمان پر ہر حال میں فرض نہیں ہے۔) [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 156]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 1395، 1458، 1496، 2448، 4347، 7371، 7372، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 19، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 2275، 2346، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 156، 2419، 5081، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 2434، 2521، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 2226، 2313، وأبو داود فى (سننه) برقم: 1584، والترمذي فى (جامعه) برقم: 625، 2014، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 1783،والدارقطني فى (سننه) برقم: 2058، 2059، وأحمد فى (مسنده) برقم: 2100، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 9924»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (1412): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما. أبو معبد: هو نافع مولى ابن عباس المكي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 156 in Urdu
نافذ مولى ابن عباس ← عبد الله بن العباس القرشي