صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
110. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر خبر ثان يصرح بأن الزجر عن الصلاة بعد صلاة الغداة لم يرد به كل الصلوات في جميع الأوقات
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ صبح کی نماز کے بعد نماز سے ممانعت سے تمام اوقات میں تمام نمازیں مراد نہیں
حدیث نمبر: 1564
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسْلَمْ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَعْلَى بْنُ عَطَاءٍ ، عَنْ جَابِرِ بْنِ يَزِيدَ بْنِ الأَسْوَدِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: صَلَّى النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةً، فَلَمْا قَضَى صَلاتَهُ إِذَا هُوَ بِرَجُلَيْنِ فِي مُؤَخَّرِ النَّاسِ، فَجِيءَ بِهِمَا تَرْتَعِدُ فَرَائِصُهُمَا، فَقَالَ لَهُمَا:" مَا حَمَلَكُمَا عَلَى أَنْ لا تُصَلِّيَا مَعَنْا"، قَالا: يَا نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّيْنَا فِي رِحَالِنَا، ثُمَّ أَقْبَلْنَا، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " إِذَا صَلَّيْتُمَا فِي رِحَالِكُمَا، ثُمَّ أَدْرَكْتُمَا الصَّلاةَ، فَصَلِّيَا، فَإِنَّهَا لَكُمَا نَافِلَةٌ" .
سیدنا یزید بن اسود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز ادا کی جب آپ نے نماز مکمل کی، تو لوگوں کے پیچھے دو آدمی موجود تھے (جنہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء میں نماز ادا نہیں کی تھی) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کے تحت ان دونوں کو لایا گیا، تو ان کے جسم کانپ رہے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان دونوں سے دریافت کیا: کیا وجہ ہے، تم دونوں نے ہمارے ساتھ نماز ادا نہیں کی۔ ان دونوں نے عرض کی: اے اللہ کے نبی! ہم نے اپنے رہائشی جگہ پر نماز ادا کر لی تھی، پھر ہم یہاں آئے تھے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جب تم اپنی رہائشی جگہ پر نماز ادا کر چکے ہو اور پھر (امام کے ساتھ) نماز کو پاؤ تو نماز ادا کر لو یہ تمہارے لئے نفل ہو جائے گی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1564]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1562»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (590 - 951).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
الرواة الحديث:
جابر بن يزيد السوائي ← يزيد بن الأسود السوائي