علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
134. فصل في الأوقات المنهي عنها - ذكر أمر المصطفى صلى الله عليه وسلم بالركعتين قبل صلاة المغرب
ان اوقات کا بیان جن میں (نماز پڑھنے سے) منع کیا گیا ہے - اس حکم کا ذکر کہ مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم نے مغرب کی نماز سے پہلے دو رکعتوں کا حکم دیا
حدیث نمبر: 1588
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عَبْدِ الصَّمَدِ بْنِ عَبْدِ الْوَارِثِ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنِي أَبِي ، حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ بُرَيْدَةَ ، أَنَّ عَبْدَ اللَّهِ الْمُزَنِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: " صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ"، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ الثَّالِثَةِ:" لِمَنْ شَاءَ" ، خَافَ أَنْ يَحْسِبِهَا النَّاسُ سُنَّةً.
سیدنا عبداللہ مزنی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مغرب سے پہلے دو رکعات ادا کرتے ہیں پھر آپ نے ارشاد فرمایا: ”تم لوگ مغرب سے پہلے دو رکعات ادا کیا کرو۔“ پھر تیسری مرتبہ آپ نے ارشاد فرمایا: (یہ حکم اس شخص کے لئے ہے)، جو ان دو رکعات کو (ادا کرنا چاہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو یہ اندیشہ ہوا کہ لوگ اسے سنت شمار نہ کر لیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1588]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1586»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
شاذ بذكر صلاته صلى الله عليه وسلم - «الضعيفة» (5662). * [ثُمَّ قَالَ: «صَلُّوا قَبْلَ الْمَغْرِبِ رَكْعَتَيْنِ»] قال الشيخ: سقطت مِنَ الأصل، فاستدركتُها من الطبعة الأخرى، ومن «صحيح البخاري» وغيره، ولكن ليس عندهم: «أنه صلى الله عليه وسلم صَلَّى الركعتين»، بل هي شَاذَّةٌ؛ كما حقَّقته فِي المصدر المذكور أعلاُه. ولم يَتَنَبَّه لذلك المُعَلِّقُ على الطبعة المشار إليها؛ فصحَّح إسناده، بل وزاد على ذلك - ضِغثاً عَلَى إبَّالةٍ -؛ فعزاهُ للبخاريِّ وجمع آخر، موهما للقرَّاء أنَّه عِندَهُم بهذه الزيادة الشاذَّة!! وكم له من مثل هذا الإيهام، ولو جُمِعَ ذَلكَ كله؛ لكان كتاب!
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، حسين المعلم: هو حسين بن ذكوان المعلم المُكْتِب العَوْذِي، وعبد الله المزني: هو عبد الله بن مغفل.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1588 in Urdu
عبد الله بن بريدة الأسلمي ← عبد الله بن مغفل المزني