صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
35. باب فرض الإيمان - ذكر إثبات الإيمان للمقر بالشهادتين معا-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - دونوں شہادتوں کے اقرار کرنے والے کے لیے ایمان کے اثبات کا ذکر
حدیث نمبر: 165
أَخْبَرَنَا الْفَضْلُ بْنُ الْحُبَابِ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى ، حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حَجَّاجٍ الصَّوَّافِ ، حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ هِلالِ بْنِ أَبِي مَيْمُونَةَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ الْحَكَمِ السُّلَمِيِّ ، قَالَ: كَانَتْ لِي غُنَيْمَةٌ تَرْعَاهَا جَارِيَةٌ لِي فِي قَبْلُ أُحُدٍ، وَالْجَوَّانِيَّةِ، فَاطَّلَعْتُ عَلَيْهَا ذَاتَ يَوْمٍ، وَقَدْ ذَهَبَ الذِّئْبُ مِنْهَا بِشَاةٍ، وَأَنَا مِنْ بَنِي آدَمَ آسَفُ كَمَا يَأْسَفُونَ، فَصَكَكْتُهَا صَكَّةً، فَعَظُمَ ذَلِكَ عَلَيَّ، فَأَتَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ: أَفَلا أَعْتِقُهَا؟ قَالَ:" ائْتِنِي بِهَا"، فَأَتَيْتُهُ بِهَا، فَقَالَ: " أَيْنَ الِلَّهِ؟" قَالَتْ: فِي السَّمَاءِ، قَالَ:" مَنْ أَنَا؟" قَالَتْ: أَنْتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَعْتِقْهَا، فَإِنَّهَا مُؤْمِنَةٌ" .
سیدنا معاویہ بن حکم سلمی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میری کچھ بکریاں تھیں جنہیں میری ایک کنیز ”احد“ اور ”جوانیہ“ کی طرف چرایا کرتی تھی۔ ایک دن میں وہاں پہنچا، تو پتا چلا کہ ان میں سے ایک بکری کو بھیڑیا لے گیا ہے۔ میں بھی انسان ہوں، مجھے بھی اسی طرح غصہ آگیا، جس طرح لوگوں کو غصہ آتا ہے، تو میں نے اسے مکا مارا۔ پھر میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے عرض کی: کیا میں اسے آزاد نہ کردوں؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تُم اسے میرے پاس لے کر آؤ۔“ میں اسے لے کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: «أَيْنَ اللهُ؟» ”اللہ تعالیٰ کہاں ہے؟“ اس نے عرض کی: «فِي السَّمَاءِ» ”آسمان میں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے دریافت فرمایا: «مَنْ أَنَا؟» ”میں کون ہوں؟“ اس نے عرض کی: «أَنْتَ رَسُولُ اللهِ» ”آپ اللہ کے رسول ہیں۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تُم اسے آزاد کر دو، وہ مومن ہے۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 165]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 537، 537، ومالك فى (الموطأ) برقم: 2875، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 859، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 165، 2247، 2248، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 1217، وأبو داود فى (سننه) برقم: 930، 3282، 3909، وأحمد فى (مسنده) برقم: 15903، وابن أبى شيبة فى (مصنفه) برقم: 8104»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الصحيحة» (3161): م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما، ابن أبي عدي: هو محمد بن إبراهيم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 165 in Urdu
عطاء بن يسار الهلالي ← معاوية بن الحكم السلمي