🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
243. باب شروط الصلاة - ذكر خبر ثان يصرح بأن الزجر عن الصلاة في أعطان الإبل لم يكن ذلك لأجل كون الشيطان فيها
نماز کی شرائط کا بیان - دوسری خبر کا ذکر جو واضح کرتی ہے کہ اونٹوں کے اصطبل میں نماز سے منع کرنے کی وجہ یہ نہیں کہ اس میں شیطان ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 1704
أَخْبَرَنَا الْحُسَيْنُ بْنُ إِدْرِيسَ الأَنْصَارِيُّ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ يَسَارٍ ، أَنَّهُ قَالَ: كُنْتُ أَسِيرُ مَعَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ بِطَرِيقِ مَكَّةَ، فَلَمْا خَشِيتُ الصُّبْحَ نَزَلْتُ فَأَوْتَرْتُ، فَقَالَ: أَلَيْسَ لَكَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أُسْوَةٌ؟ فَقُلْتُ: بَلَى وَاللَّهِ، قَالَ: فَإِنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " يُوتِرُ عَلَى الْبَعِيرِ" . قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: لَوْ كَانَ الزَّجْرُ عَنِ الصَّلاةِ فِي أَعْطَانِ الإِبِلِ لأَجَلِ أَنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ لَمْ يُصَلِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْبَعِيرِ، إِذْ مُحَالٌ أَنْ لا تَجُوزَ الصَّلاةُ فِي الْمَوَاضِعِ الَّتِي قَدْ يَكُونُ فِيهَا الشَّيْطَانُ، ثُمَّ تَجُوزُ الصَّلاةُ عَلَى الشَّيْطَانِ نَفْسِهِ، بَلْ مَعْنَى قَوْلِهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: إِنَّهَا خُلِقَتْ مِنَ الشَّيَاطِينِ، أَرَادَ بِهِ أَنَّ مَعَهَا الشَّيَاطِينُ عَلَى سَبِيلِ الْمُجَاوَرَةِ وَالْقُرْبِ.
سعید بن یسار بیان کرتے ہیں: میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے ہمراہ مکہ کی طرف سفر کر رہا تھا۔ جب مجھے صبح صادق (قریب) ہونے کا اندیشہ ہوا تو میں سواری سے نیچے اترا اور میں نے وتر ادا کر لئے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: تمہارے لئے اللہ کے رسول کے طریقے میں نمونہ نہیں ہے۔ میں نے جواب دیا: جی ہاں! اللہ کی قسم! (نمونہ ہے) تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر ہی وتر ادا کر لیتے تھے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اونٹوں کے باڑے میں نماز ادا کرنے کی ممانعت کی بنیادی وجہ اگر یہ ہوتی کہ ان کی تخلیق شیاطین سے ہوئی ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اونٹ پر نماز ادا نہ کرتے۔ کیونکہ یہ بات محال ہے کہ ایسی جگہ پر نماز ادا کرنا جائز نہ ہو جہاں شیطان ہوتا ہے اور خود شیطان پر نماز ادا کرنا جائز ہو۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان ان کی تخلیق شیاطین سے ہوئی ہے کا مطلب یہ ہے کہ آپ کی مراد یہ ہے: مجاور ت اور قرب کے حوالے سے، ان کے ساتھ شیطان ہوتا ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1704]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1701»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح سنن ابن ماجه» (1200).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥عبد الله بن عمر العدوي، أبو عبد الرحمنصحابي
👤←👥سعيد بن يسار، أبو الحباب
Newسعيد بن يسار ← عبد الله بن عمر العدوي
ثقة
👤←👥أبو بكر بن عمر القرشي، أبو بكر
Newأبو بكر بن عمر القرشي ← سعيد بن يسار
ثقة
👤←👥مالك بن أنس الأصبحي، أبو عبد الله
Newمالك بن أنس الأصبحي ← أبو بكر بن عمر القرشي
رأس المتقنين وكبير المتثبتين
👤←👥أحمد بن أبي بكر القرشي، أبو مصعب
Newأحمد بن أبي بكر القرشي ← مالك بن أنس الأصبحي
ثقة
👤←👥الحسين بن إدريس الأنصاري، أبو علي
Newالحسين بن إدريس الأنصاري ← أحمد بن أبي بكر القرشي
ثقة