صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
43. باب فرض الإيمان - ذكر البيان بأن الإيمان والإسلام شعب وأجزاء غير ما ذكرنا في خبر ابن عباس وابن عمر بحكم الأمينين محمد وجبريل عليهما السلام-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - وضاحت کہ ایمان و اسلام کی شاخیں اور اجزاء وہی نہیں جو ابن عباس اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی روایت میں مذکور ہیں بلکہ اس سے زیادہ ہیں۔
حدیث نمبر: 173
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ خُزَيْمَةَ ، حَدَّثَنَا يُوسُفُ بْنُ وَاضِحٍ الْهَاشِمِيُّ ، حَدَّثَنَا مُعْتَمِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ يَعْمَرَ، قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ يَعْنِي لابْنِ عُمَرَ: إِنَّ أَقْوَامًا يَزْعُمُونَ أَنْ لَيْسَ قَدْرٌ! قَالَ: هَلْ عِنْدَنَا مِنْهُمْ أَحَدٌ؟ قُلْتُ: لا، قَالَ: فَأَبْلِغْهُمْ عَنِّي لَقِيتَهُمْ: إِنَّ ابْنَ عُمَرَ يَبْرَأُ إِلَى اللَّهِ مِنْكُمْ، وَأَنْتُمْ بُرَآءُ مِنْهُ، حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ ، قَالَ: بَيْنَمَا نَحْنُ جُلُوسٌ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي أُنَاسٍ، إِذْ جَاءَ رَجُلٌ لَيْسَ عَلَيْهِ سَحْنَاءُ سَفَرٍ، وَلَيْسَ مِنْ أَهْلِ الْبَلَدِ، يَتَخَطَّى حَتَّى وَرَكَ، فَجَلَسَ بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِسْلامُ؟ قَالَ: " الإِسْلامُ أَنْ تَشْهَدَ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، وَأَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ، وَأَنْ تُقِيمَ الصَّلاةَ، وَتُؤْتِيَ الزَّكَاةَ، وَتَحُجَّ وَتَعْتَمِرَ، وَتَغْتَسِلَ مِنَ الْجَنَابَةِ، وَأَنْ تُتِمَّ الْوُضُوءَ، وَتَصُومَ رَمَضَانَ"، قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ فَأَنَا مُسْلِمٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِيمَانُ؟ قَالَ:" أَنْ تُؤْمِنَ بِاللَّهِ وَمَلائِكَتِهِ وَكُتُبِهِ وَرُسُلِهِ، وَتُؤْمِنَ بِالْجَنَّةِ وَالنَّارِ وَالْمِيزَانِ، وَتُؤْمِنَ بِالْبَعْثِ بَعْدَ الْمَوْتِ، وَتُؤْمِنَ بِالْقَدْرِ خَيْرِهِ وَشَرِّهِ"، قَالَ: فَفَعَلْتُ ذَلِكَ، فَأَنَا مُؤْمِنٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: يَا مُحَمَّدُ، مَا الإِحْسَانُ؟ قَالَ:" الإِحْسَانُ أَنْ تَعْمَلَ لِلَّهِ كَأَنَّكَ تَرَاهُ، فَإِنَّكَ إِنْ لا تَرَاهُ، فَإِنَّهُ يَرَاكَ"، قَالَ: فَفَعَلْتُ هَذَا، فَأَنَا مُحْسِنٌ؟ قَالَ:" نَعَمْ"، قَالَ: صَدَقْتَ، قَالَ: فَمَتَى السَّاعَةُ؟ قَالَ:" سُبْحَانَ اللَّهِ، مَا الْمَسْئُولُ عَنْهَا بِأَعْلَمَ مِنَ السَّائِلِ، وَلَكِنْ إِنْ شَئْتَ نَبَّأْتُكَ عَنْ أَشْرَاطِهَا"، قَالَ: أَجَلْ، قَالَ:" رَأَيْتَ الْعَالَةَ الْحُفَاةَ الْعُرَاةَ يَتَطَاوَلُونَ فِي الْبِنَاءِ، وَكَانُوا مُلُوكًا"، قَالَ: مَا الْعَالَةُ الْحُفَاةُ الْعُرَاةُ؟ قَالَ:" الْعُرَيْبُ"، قَالَ:" وَرَأَيْتَ الأَمَةَ تَلِدُ رَبَّتَهَا، فَذَلِكَ مِنْ أَشْرَاطِ السَّاعَةِ"، قَالَ: صَدَقْتَ، ثُمَّ نَهَضَ فَوَلَّى، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" عَلَيَّ بِالرَّجُلِ"، فَطَلَبْنَاهُ كُلَّ مَطْلَبٍ فَلَمْ نَقَدِرْ عَلَيْهِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" هَلْ تَدْرُونَ مَنْ هَذَا؟ هَذَا جِبْرِيلُ أَتَاكُمْ لَيُعَلِّمَكُمْ دِينَكُمْ، خُذُوا عَنْهُ، وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ مَا شُبِّهَ عَلَيَّ مُنْذُ أَتَانِي قَبْلُ مَرَّتِي هَذِهِ، وَمَا عَرَفْتُهُ حَتَّى وَلَّى" قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: تَفَرَّدَ سُلَيْمَانُ التَّيْمِيُّ بِقَوْلِهِ" خُذُوا عَنْهُ"، وَبِقَوْلِهِ:" تَعْتَمِرَ وَتَغْتَسِلَ وَتُتِمَّ الْوُضُوءَ"، .
یحییٰ بن یعمر کہتے ہیں: میں نے کہا: اے ابوعبدالرحمن! (یعنی انہوں نے سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے یہ کہا:) کچھ لوگ ہیں جو اس بات کا اعتقاد رکھتے ہیں کہ تقدیر کی کوئی حقیقت نہیں ہے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے دریافت کیا: ”کیا ہمارے ہاں ان لوگوں میں سے کوئی شخص ہے؟“ انہوں نے جواب دیا: جی نہیں۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ”جب تمہاری ان لوگوں کے ساتھ ملاقات ہو تو تم میری طرف سے انہیں یہ پیغام پہنچا دینا کہ عبداللہ بن عمر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں تم سے بری الذمہ ہونے کا اعتراف کرتا ہے اور تمہارا اس سے کوئی واسطہ نہیں ہے۔“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے ہمیں یہ بات بیان کی تھی کہ ایک مرتبہ ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کچھ لوگوں کے ساتھ بیٹھے ہوئے تھے۔ اس دوران ایک شخص آیا جس پر سفر کی کوئی علامت نہیں تھی اور وہ شہر کا رہنے والا بھی نہیں تھا۔ وہ لوگوں کی گردنیں پھلانگتا ہوا آگے آ کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے بیٹھ گیا۔ اس نے عرض کی: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! اسلام سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”اسلام یہ ہے کہ تم اس بات کی گواہی دو کہ اللہ تعالیٰ کے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، اور بے شک سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں، تم نماز قائم کرو، زکاۃ ادا کرو، حج و عمرہ کرو، غسلِ جنابت کرو، وضو مکمل کرو اور رمضان کے روزے رکھو۔“ اس نے دریافت کیا: ”جب میں ایسا کر لوں گا تو کیا میں مسلمان ہوں گا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں۔“ اس نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا ہے۔“ اس نے کہا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! ایمان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ کہ تم اللہ تعالیٰ، اس کے فرشتوں، کتابوں اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو، تم جنت، جہنم اور میزان پر ایمان رکھو، تم مرنے کے بعد دوبارہ زندہ ہونے پر ایمان رکھو اور تم تقدیر پر ایمان رکھو، خواہ وہ اچھی ہو یا بری۔“ اس شخص نے دریافت کیا: ”جب میں یہ کر لوں گا تو کیا میں مومن ہوں گا؟“ تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں!۔“ اس نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا ہے۔“ اس نے دریافت کیا: اے سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! احسان سے مراد کیا ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”احسان یہ ہے کہ تم عمل کو اللہ تعالیٰ کے لیے اس طرح کرو کہ تم اسے دیکھ رہے ہو، اور اگر تم اسے نہیں دیکھ رہے تو وہ تمہیں دیکھ رہا ہے۔“ اس نے دریافت کیا: ”اگر میں ایسا کر لوں گا تو کیا میں احسان کرنے والا شمار ہوں گا؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جی ہاں!۔“ اس نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا ہے۔“ اس نے دریافت کیا: ”قیامت کب آئے گی؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سبحان اللہ! اس بارے میں جس سے سوال کیا گیا ہے وہ سوال کرنے والے سے زیادہ نہیں جانتا، اگر تم چاہو تو میں تمہیں اس کی نشانیوں کے بارے میں بتا دیتا ہوں۔“ اس نے کہا: ٹھیک ہے، تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”جب تم غریب، ننگے پاؤں اور نامناسب لباس والے لوگوں کو دیکھو کہ وہ ایک دوسرے کے مقابلے میں بلند عمارتیں تعمیر کریں اور وہ بادشاہ بن جائیں۔“ تو اس نے دریافت کیا: ”ننگے پاؤں اور نامناسب لباس والے لوگوں سے مراد کیا ہے؟“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ”عریب (یعنی نچلے طبقے کے عرب)۔“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم کنیز کو دیکھو کہ وہ اپنے آقا کو جنم دے تو یہ قیامت کی نشانیوں میں سے ایک ہوگی۔“ تو اس نے کہا: ”آپ نے سچ فرمایا ہے۔“ پھر وہ واپس چلا گیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس شخص کو میرے پاس لے کر آؤ۔“ (راوی کہتے ہیں) ہم نے اسے ہر جگہ تلاش کیا لیکن وہ ہمیں نہیں ملا۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم جانتے ہو یہ کون تھا؟ یہ جبرائیل علیہ السلام تھے جو تمہارے پاس اس لیے آئے تھے تاکہ تمہیں تمہارے دین کی تعلیم دیں، تو تم اس سے حاصل کر لو۔ اس ذات کی قسم جس کے دستِ قدرت میں میری جان ہے! اس ایک مرتبہ سے پہلے کبھی مجھے اسے پہچاننے میں دقت نہیں ہوئی، لیکن اس مرتبہ میں نے اسے اس وقت پہچانا جب وہ واپس چلا گیا۔“ امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں: سلیمان تیمی نامی راوی روایت کے یہ الفاظ نقل کرنے میں منفرد ہیں: ”تم اس سے حاصل کر لو۔“ اور یہ الفاظ بھی: ”اور یہ کہ تم عمرہ کرو اور تم غسل کرو اور تم وضو مکمل کرو۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 173]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 8، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 1، 2504، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 168، 173، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 5005، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 5852، وأبو داود فى (سننه) برقم: 4695، والترمذي فى (جامعه) برقم: 2610، 2610 م 1، 2610 م 2، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 63، والدارقطني فى (سننه) برقم: 2708، وأحمد فى (مسنده) برقم: 186»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «الإرواء» (1/ 34)، «الصحيحة» (2903): م دون الزيادة في آخره، وتقدم (168). * قال الشيخ: انظر الحديث رقم (168). قلت: وإسناده صحيح، وكذا هذا. وليس عند مسلم جملة «وتؤمن بالجنة والنار والميزان»، وزاد عليه - أيضا - في الحديث المتقدم - بعد: «خيره وشرّه» -: «حُلوه ومرّه». وهو رواية للبيهقي في «الشعب» (1/ 202).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 173 in Urdu
عبد الله بن عمر العدوي ← عمر بن الخطاب العدوي