صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
280. باب فضل الصلوات الخمس - ذكر تضعيف الأجر لمن صلى العصر من أهل الكتاب بعد إسلامهم
پانچ نمازوں کا فضیلت کا بیان - اہل کتاب کے لیے جو اسلام قبول کرنے کے بعد عصر کی نماز پڑھتے ہیں، ان کے اجر کے دوگنا ہونے کا ذکر
حدیث نمبر: 1744
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْمَدِينِيِّ ، حَدَّثَنَا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ ، عَنْ خَيْرِ بْنِ نُعَيْمٍ الْحَضْرَمِيِّ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ هُبَيْرَةَ السَّبَائِيِّ ، عَنْ أَبِي تَمِيمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ أَبِي بَصْرَةَ الْغِفَارِيِّ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلاةَ الْعَصْرِ، فَقَالَ:" إِنَّ هَذِهِ الصَّلاةَ عُرِضَتْ عَلَى مَنْ كَانَ قَبْلَكُمْ، فَتَوَانَوْا فِيهَا وَتَرَكُوهَا، فَمَنْ صَلاهَا مِنْهُمْ ضُعِّفَ لَهُ أَجْرُهَا مَرَّتَيْنِ، وَلا صَلاةَ بَعْدَهَا حَتَّى يُرَى الشَّاهِدُ" . وَالشَّاهِدُ: النَّجْمُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ: الْعَرَبُ تُسَمِّي الثُّرَيَّا: النَّجْمَ، وَلَمْ يُرِدْ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَوْلِهِ هَذَا أَنَّ وَقْتَ صَلاةِ الْمَغْرِبِ لا تَدْخُلُ حَتَّى تُرَى الثُّرَيَّا، لأَنَّ الثُّرَيَّا لا تَظْهَرُ إِلا عِنْدَ اسْوِدَادِ الأُفُقِ وَتَغْيِيرِ الأَثِيرِ، وَلَكِنْ مَعْنَاهُ عِنْدِي: أَنَّ الشَّاهِدَ هُوَ أَوَّلُ مَا يَظْهَرُ مِنْ تَوَابِعِ الثُّرَيَّا، لأَنَّ الثُّرَيَّا تَوَابِعُهَا الْكَفُّ الْخَضِيبُ، وَالْكَفُّ الْجَذْمَاءُ، وَالْمَأْبِضُ، وَالْمِعْصَمُ، وَالْمِرْفَقُ، وَإِبْرَةُ الْمِرْفَقِ، وَالْعَيُّوقُ، وَرِجْلُ الْعَيُّوقِ، وَالأَعْلامُ، وَالضَّيِّقَةُ، وَالْقِلاصُ، وَلَيْسَ هَذِهِ الْكَوَاكِبُ بِالأَنْجُمِ الزُّهْرِ إِلا الْعُيُّوقَ، فَإِنَّهُ كَوْكَبٌ أَحْمَرُ مُنِيرٌ مُنْفَرِدٌ فِي شِقِّ الشِّمَالِ، عَلَى مَتْنِ الثُّرَيَّا يَظْهَرُ عِنْدَ غَيْبُوبَةِ الشَّمْسِ، فَإِذَا كَانَ الإِنْسَانُ فِي بَصَرِهِ أَدْنَى حِدَّةٍ، وَغَابَتِ الشَّمْسُ، يَرَى الْعَيُّوقَ وَهُوَ الشَّاهِدُ الَّذِي تَحِلُّ صَلاةُ الْمَغْرِبِ عِنْدَ ظُهُورِهِ.
سیدنا ابوبصرہ غفاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں عصر کی نماز پڑھائی اور ارشاد فرمایا: بے شک یہ نماز تم سے پہلے لوگوں کے سامنے بھی پیش کی گئی تھی تو انہوں نے اس کے بارے میں کوتاہی کی اور اس کو ترک کر دیا۔ ان لوگوں میں سے جس نے اس نماز کو ادا کیا اسے اس نماز کا دو گنا اجر دیا گیا اور اس نماز کے بعد کوئی نماز ادا نہیں کی جائے گی۔ یہاں تک کہ شاہد (ستارہ) نظر آ جائے۔“ راوی کہتے ہیں:) شاہد سے مراد ستارہ ہے۔ (امام ابن حبان رحمہ اللہ فرماتے ہیں:) اہل عرب ستارے کو ”ثریا“ کہتے ہیں لیکن اس فرمان کے ذریعے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی یہ مراد نہیں ہے کہ مغرب کا وقت اس وقت تک شروع نہیں ہوتا جب تک ”ثریا“ (ستارہ) نظر نہ آ جائے۔ اس کی وجہ یہ ہے ثریا اس وقت نمودار ہوتا ہے۔ جب افق سیاہ ہو چکا ہو اور اثیر تبدیل ہو چکا ہو۔ میرے نزدیک اس کا معنی یہ ہے، ثریا کے تابع (ستاروں) میں سے پہلا نمودار ہونے والا ستارہ ”شاہد“ ہے، ثریا کے تابع ستارے یہ ہیں: کف خضیب، کف جذماء، مابض، معصم، مرفق، ابرہ مرفق، عیوق، رجل عیوق، اعلام، ضیقہ، قلاص، ان میں سے عیوق کے علاوہ کوئی بھی ستارہ چمکدار نہیں ہے، صرف وہ (یعنی عیوق) سرخ اور چمکدار ستارہ ہے، جو شمال کی سمت میں ثریا کے متن پر منفرد طور پر نظر آتا ہے۔ اور یہ سورج غروب ہونے پر نمودار ہوتا ہے۔ جب انسان کی بینائی میں معمولی سی تیزی ہو، تو سورج غروب ہونے پر انسان ”عیوق“ کو دیکھ سکتا ہے۔ یہ وہ ستارہ ہے جس کے نمودار ہونے پر ہی مغرب کی نماز ادا کرنا جائز ہوتا ہے (یعنی اس نماز کا وقت شروع ہوتا ہے) [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1744]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1741»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «مختصر مسلم» (215)، «التعليق الرغيب» (1/ 163).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، فقد صرَّح ابن إسحاق بالتحديث، أبو بصرة: هو جميل بن بصرة.
الرواة الحديث:
عبد الله بن عبد الملك الجيشاني ← جميل بن بصرة الغفاري