صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
47. باب فرض الإيمان - ذكر إطلاق اسم الإيمان على من أتى جزءا من بعض أجزائه-
ایمان کے فرض ہونے کا بیان - اس شخص پر ایمان کا اطلاق کیا جانا جس نے ایمان کے بعض حصوں میں سے کسی ایک حصے پر عمل کیا۔
حدیث نمبر: 177
أَخْبَرَنَا عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذْ بْنِ مُعَاذْ ، حَدَّثَنَا أَبِي ، حَدَّثَنَا عَاصِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَامِرِ بْنِ السِّمْطِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ إِسْحَاقَ بْنِ طَلْحَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي ثُمَّ اسْتَكْتَمَنِي أَنْ أُحَدِّثَ بِهِ مَا عَاشَ مُعَاوِيَةُ، فَذَكَرَ عَامِرٌ، قَالَ: سَمِعْتُهُ وَهُوَ يَقُولُ: حَدَّثَنِي عَطَاءُ بْنُ يَسَارٍ ، وَهُوَ قَاضِي الْمَدِينَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ ابْنَ مَسْعُودٍ وَهُوَ يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " سَيَكُونُ أُمَرَاءُ مِنْ بَعْدَي يَقُولُونَ مَا لا يَفْعَلُونَ، وَيَفْعَلُونَ مَا لا يَأْمُرُونَ، فَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِيَدِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِلِسَانِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، وَمَنْ جَاهَدَهُمْ بِقَلْبِهِ فَهُوَ مُؤْمِنٌ، لا إِيمَانَ بَعْدَهُ" قَالَ عَطَاءٌ: فَحِينَ سَمِعْتُ الْحَدِيثَ مِنْهُ انْطَلَقْتُ بِهِ إِلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَأَخْبَرْتُهُ، فَقَالَ: أَنْتَ سَمِعْتَ ابْنَ مَسْعُودٍ يَقُولُ هَذَا؟ كَالْمُدْخَلِ عَلَيْهِ فِي حَدِيثِهِ، قَالَ عَطَاءٌ: فَقُلْتُ: هُوَ مَرِيضٌ فَمَا يَمْنَعُكَ أَنْ تَعُودَهُ؟، قَالَ: فَانْطَلِقْ بِنَا إِلَيْهِ، فَانْطَلَقَ وَانْطَلَقْتُ مَعَهُ، فَسَأَلَهُ عَنْ شَكْوَاهُ، ثُمَّ سَأَلَهُ عَنِ الْحَدِيثِ، قَالَ: فَخَرَجَ ابْنُ عُمَرَ وَهُوَ يُقَلِّبُ كَفَّهُ وَهُوَ يَقُولُ: مَا كَانَ ابْنُ أُمِّ عَبْدٍ يَكْذِبُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى الِلَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
عطاء بن یسار، جو مدینہ منورہ کے قاضی ہیں، وہ بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بیان کرتے ہوئے سنا ہے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے: عنقریب میرے بعد ایسے حکمران آئیں گے، جو وہ بات کہیں گے، جو وہ کرتے نہیں ہوں گے، اور وہ لوگ ایسے کام کریں گے، جن کا انہیں حکم نہیں دیا گیا ہو گا۔ تو جو شخص اپنے ہاتھ کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا، وہ مومن ہو گا اور جو اپنی زبان کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا، وہ مؤمن ہو گا اور جو شخص اپنی زبان کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا، وہ مؤمن ہو گا اور جو شخص اپنے دل کے ذریعے ان کے ساتھ جہاد کرے گا، وہ مومن ہو گا۔ اس کے بعد ایمان نہیں ہو گا۔ عطاء نامی راوی کہتے ہیں: جب میں نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی زبانی یہ حدیث سنی، تو میں یہ روایت لے کر سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور میں نے انہیں اس بارے میں بتایا تو انہوں نے دریافت کیا: کیا تم نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو یہ بات بیان کرتے ہوئے خود سنا ہے؟ عطاء کہتے ہیں: میں نے کہا: وہ بیمار ہیں۔ کیا وجہ ہے، آپ ان کی عیادت کے لئے نہیں جاتے، تو سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: تم ہمیں ان کے پاس لے جاؤ۔ جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہاں تشریف لے گئے، تو ان کے ساتھ میں بھی گیا سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے ان کی بیماری کے بارے میں دریافت کیا: پھر ان سے اس حدیث کے بارے میں دریافت کیا۔ راوی کہتے ہیں: جب سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ وہاں سے نکلے، تو وہ اپنی ہتھیلی پلیٹ رہے تھے اور یہ کہہ رہے تھے: ابن ام عبد (یعنی سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ) نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جھوٹی بات منسوب نہیں کر سکتے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الإيمان/حدیث: 177]
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح الإسناد: ورواه مسلم من طريق آخر؛ دون قوله: قال عطاء ... الخ - «التعليق على إصلاح المساجد» (ص 44). * [عِمْرَانُ بْنُ مُوسَى بْنِ مُجَاشِعٍ] قال الشيخ: هو مِن الحفّاظ الأثبات الذين أكثر عنهم المؤلِّف - رحمه الله -، وقد ترجمَه الذهبيّ في «السير» (14/ 136 - 137). ومن فوقه ثقاتٌ مِن رجال البخاري، غير عامر بنِ السِّمْطِ، وهو ثقةٌ، فالإسناد صحيحٌ متصل بسماع عطاء بن يسار مِن ابن مسعود. وله عنه طريق في «مسلم» وغيره، وهو مُخرَّج في «إصلاح المساجد» (ص 44).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده جيد، رجاله رجال الصحيح غير عامر بن السمط، وهو ثقة.
الرواة الحديث:
عطاء بن يسار الهلالي ← عبد الله بن مسعود