صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
308. باب صفة الصلاة - ذكر البيان بأن المصطفى صلى الله عليه وسلم كان يدعو بما وصفنا بعد التكبير لا قبل
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا بیان کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تکبیر کے بعد وہ دعا پڑھتے تھے جس کا ہم نے ذکر کیا ہے، اس سے پہلے نہیں
حدیث نمبر: 1774
أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الأَنْمَاطِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الدَّوْرَقِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مُحَمَّدٍ ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي مُوسَى بْنُ عُقْبَةَ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْفَضْلِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الأَعْرَجِ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي رَافِعٍ ، عَنْ عَلِيٍّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ إِذَا ابْتَدَأَ الصَّلاةَ الْمَكْتُوبَةَ، قَالَ:" وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالأَرْضَ حَنِيفًا، وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ، إِنَّ صَلاتِي، وَنُسُكِي، وَمَحْيَايَ، وَمَمَاتِي، لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ، لا شَرِيكَ لَهُ، وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ، اللَّهُمَّ لَكَ الْحَمْدُ لا إِلَهَ إِلا أَنْتَ سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، لا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لأَحْسَنِ الأَخْلاقِ، لا يَهْدِي لأَحْسَنِهَا إِلا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا، لا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ، وَالْخَيْرُ بِيَدَيْكَ، وَالْمَهْدِيُّ مَنْ هَدَيْتَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ" .
سیدنا علی رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جب فرض نماز ادا کرتے تھے، تو یہ پڑھتے تھے: ” ﴿إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ﴾ [سورة الأنعام: 79] ”میں نے سیدھے راستے پر گامزن رہتے ہوئے اپنا رخ اس ذات کی طرف کر لیا جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور میں مشرک نہیں ہوں“، ﴿إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ * لَا شَرِيكَ لَهُ ۖ وَبِذَٰلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ﴾ [سورة الأنعام: 162-163] ”بیشک میری نماز، میری زندگی، میری موت، میری قربانی اللہ کے لیے ہے، جو تمام جہانوں کا پروردگار ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، مجھے اس بات کا حکم دیا گیا ہے اور میں مسلمان ہوں“، «اللَّهُمَّ أَنْتَ الْمَلِكُ لَا إِلَهَ إِلَّا أَنْتَ، سُبْحَانَكَ وَبِحَمْدِكَ، أَنْتَ رَبِّي وَأَنَا عَبْدُكَ، ظَلَمْتُ نَفْسِي، وَاعْتَرَفْتُ بِذَنْبِي، فَاغْفِرْ لِي ذُنُوبِي جَمِيعًا، إِنَّهُ لَا يَغْفِرُ الذُّنُوبَ إِلَّا أَنْتَ، وَاهْدِنِي لِأَحْسَنِ الْأَخْلَاقِ لَا يَهْدِي لِأَحْسَنِهَا إِلَّا أَنْتَ، وَاصْرِفْ عَنِّي سَيِّئَهَا لَا يَصْرِفُ عَنِّي سَيِّئَهَا إِلَّا أَنْتَ، لَبَّيْكَ وَسَعْدَيْكَ وَالْخَيْرُ كُلُّهُ فِي يَدَيْكَ، وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ، أَنَا بِكَ وَإِلَيْكَ، تَبَارَكْتَ وَتَعَالَيْتَ، أَسْتَغْفِرُكَ وَأَتُوبُ إِلَيْكَ» ”اے اللہ! ہم تیرے لیے مخصوص ہیں، تیرے علاوہ اور کوئی معبود نہیں ہے، تو پاک ہے اور حمد تیرے لیے مخصوص ہے، تو میرا پروردگار ہے اور میں تیرا بندہ ہوں، میں نے اپنے اوپر ظلم کیا ہے، میں اپنے ذنب کا اعتراف کرتا ہوں، تو میرے تمام ذنوب کی مغفرت کر دے، ذنوب کی مغفرت صرف تو ہی کر سکتا ہے، اچھے اخلاق کی طرف صرف تو ہی رہنمائی کر سکتا ہے، تو برے اخلاق کو مجھ سے دور کر دے، بے شک برے اخلاق کو صرف تو ہی مجھ سے دور کر سکتا ہے، میں تیری بارگاہ میں حاضر ہوں، سعادت تجھ سے ہی حاصل ہو سکتی ہے اور بھلائی تیرے دستِ قدرت میں ہے، ہدایت یافتہ وہ ہے جسے تو ہدایت عطا کرے، میں تیری مدد سے ہوں اور تیری طرف رجوع کرتا ہوں، تو برکت والا اور بلند و برتر ہے اور میں تجھ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور تیری بارگاہ میں توبہ کرتا ہوں“۔“ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1774]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 393، 771، وابن الجارود فى "المنتقى"، 198، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 462، 463، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1771، 1772، 1773، 1774، 1901، 1903، 1904، 1966، 1977، 1978، 2025، وأبو داود فى (سننه) برقم: 744، 760، 835، 1509، والترمذي فى (جامعه) برقم: 266، 3421، 3422، 3423، والدارمي فى (مسنده) برقم: 1274، 1353، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 864، 1054، وأحمد فى (مسنده) برقم: 728» «رقم طبعة با وزير 1771»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني صحيح: م دون بعض الجمل، وهو مكرر (1769). تنبيه!! رقم (1769) = (1772) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -. فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط إسناد صحيح على شرط مسلم, وهو مكرر (1772).
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1774 in Urdu
عبيد الله بن أسلم المدني ← علي بن أبي طالب الهاشمي