صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
359. باب صفة الصلاة - ذكر العلة التي من أجلها حرز قراءة المصطفى صلى الله عليه وسلم في الظهر والعصر
نماز کے طریقہ کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی ظہر اور عصر میں قراءت محدود تھی
حدیث نمبر: 1826
أَخْبَرَنَا أَبُو خَلِيفَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُسَدَّدُ بْنُ مُسَرْهَدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ بْنُ زِيَادٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الأَعْمَشُ ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عُمَيْرٍ ، عَنْ أَبِي مَعْمَرٍ ، قَالَ: قُلْنَا لِخَبَّابٍ : هَلْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ فِي الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ؟ قَالَ:" نَعَمْ". قُلْنَا: بِمَ كُنْتُمْ تَعْرِفُونَ ذَلِكَ؟ قَالَ:" بِاضْطِرَابِ لِحْيَتِهِ" .
ابومعمر بیان کرتے ہیں: ہم نے سیدنا خباب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا: کیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ظہر اور عصر کی نماز میں قرأت کرتے تھے۔ انہوں نے جواب دیا: جی ہاں ہم نے دریافت کیا: آپ کو یہ بات کیسے پتہ چلتی تھی؟ انہوں نے جواب دیا: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی داڑھی کی حرکت کی وجہ سے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1826]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1823»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (764): خ.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناد صحيح على شرط البخاري، مسدد بن مسرهد: ثقة من رجال البخاري، ومن فوقه على شرطهما، أبو معمر: هو عبد الله بن سخبرة الأزدي.
الرواة الحديث:
عبد الله بن سخبرة الأزدي ← خباب بن الأرت التميمي