صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
386. باب صفة الصلاة - ذكر الإباحة للمرء أن يطول الركعة الأولى من صلاته رجاء لحوق الناس صلاته إذا كان إماما
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کی اجازت کا ذکر کہ آدمی اپنی نماز کی پہلی رکعت کو لمبا کر سکتا ہے تاکہ لوگ اس کی نماز میں شامل ہو سکیں اگر وہ امام ہو
حدیث نمبر: 1854
أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ الْمُثَنَّى ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ نُمَيْرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ ، عَنْ مُعَاوِيَةَ بْنِ صَالِحٍ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ يَزِيدَ ، عَنْ قَزَعَةَ ، قَالَ: سَأَلْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ عَنْ صَلاةِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَيْسَ لَكَ فِي ذَلِكَ خَيْرٌ، كَانَتِ الصَّلاةُ تُقَامُ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَيَخْرُجُ أَحَدُنَا إِلَى الْبَقِيعِ لِيَقْضُيَ حَاجَتَهُ، ثُمَّ يَجِيءُ، فَيَتَوَضَّأُ، فَيَجِدُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي الرَّكْعَةِ الأُولَى مِنَ الظُّهْرِ" .
قزعہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سیدنا ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کے بارے میں دریافت کیا، تو انہوں نے فرمایا: اس میں تمہارے لیے بھلائی نہیں ہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے نماز کی اقامت کہہ دی جاتی تھی، پھر ہم میں سے کوئی ایک شخص قضائے حاجت کرنے کے لیے بقیع (کے میدان) کی طرف چلا جاتا تھا، پھر وہ واپس آتا، وضو کر لیتا اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو ظہر کی نماز کی پہلی رکعت ہی میں پا لیتا تھا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1854]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 454، 454، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1854، والنسائي فى (المجتبیٰ) برقم: 972، والنسائي فى (الكبریٰ) برقم: 1047، وابن ماجه فى (سننه) برقم: 825، والبيهقي فى(سننه الكبير) برقم: 2531، 4094، وأحمد فى (مسنده) برقم: 11480» «رقم طبعة با وزير 1851»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صفة الصلاة»: م.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1854 in Urdu
قزعة بن يحيى البصري ← أبو سعيد الخدري