صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
393. باب صفة الصلاة - ذكر ما يستحب للمصلي إخراج اليدين من كميه عند رفعه إياهما في الموضع الذي وصفناه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس بات کا ذکر کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ وہ ہمارے بیان کردہ مقام پر ہاتھ اٹھاتے وقت اپنے ہاتھوں کو آستینوں سے باہر نکالے
حدیث نمبر: 1862
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحَجَّاجِ السَّامِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْجَبَّارِ بْنُ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: كُنْتُ غُلامًا لا أَعْقِلُ صَلاةَ أَبِي، فَحَدَّثَنِي عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: صَلَّيْتُ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" فَكَانَ إِذَا دَخَلَ فِي الصَّفِّ رَفَعَ يَدَيْهِ وَكَبَّرَ، ثُمَّ الْتَحَفَ فَأَدْخَلَ يَدَهُ فِي ثَوْبِهِ، فَأَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَإِذَا أَرَادَ أَنْ يَرْكَعَ، أَخْرَجَ يَدَيْهِ، وَرَفَعَهُمَا، وَكَبَّرَ، ثُمَّ رَكَعَ، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، رَفَعَ يَدَيْهِ، فَكَبَّرَ، فَسَجَدَ، ثُمَّ وَضَعَ وَجْهَهُ بَيْنَ كَفَّيْهِ" . قَالَ ابْنُ جُحَادَةَ: فَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِلْحَسَنِ بْنِ أَبِي الْحَسَنِ، فَقَالَ: هِيَ صَلاةُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَعَلَهُ مَنْ فَعَلَهُ، وَتَرَكَهُ مَنْ تَرَكَهُ. قَالَ أَبُو حَاتِمٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ: مُحَمَّدُ بْنُ جُحَادَةَ مِنَ الثِّقَاتِ الْمُتْقِنِينَ وَأَهْلُ الْفَضْلِ فِي الدِّينِ، إِلا أَنَّهُ وَهِمَ فِي اسْمِ هَذَا الرَّجُلِ، إِذِ الْجَوَادُ يَعْثُرُ، فَقَالَ: وَائِلُ بْنُ عَلْقَمَةَ، وَإِنَّمَا هُوَ عَلْقَمَةُ بْنُ وَائِلٍ.
سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے نماز ادا کی، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم صف میں داخل ہوئے (یعنی نماز پڑھنا شروع کی) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور تکبیر کہی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «اِلْتِحَاف» ”کپڑا لپیٹنا“ کے طور پر کپڑا لپیٹا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تھوڑا سا اپنا ہاتھ کپڑے کے اندر داخل کر لیا اور دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا، پھر جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع میں جانے کا ارادہ کیا تو دونوں ہاتھ باہر نکال لیے اور ان کو بلند کیا اور تکبیر کہی، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں چلے گئے، جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رکوع سے سر اٹھایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دونوں ہاتھ بلند کیے اور تکبیر کہتے ہوئے سجدے میں چلے گئے، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں کے درمیان رکھا۔ ابن جحادہ نامی راوی بیان کرتے ہیں: میں نے اس بات کا تذکرہ حسن بن ابو الحسن رحمہ اللہ سے کیا تو وہ بولے: یہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز ہے، جس نے ایسا کرنا تھا اس نے ایسا کیا اور جس نے اس کو چھوڑنا تھا اس نے اسے چھوڑ دیا۔ امام ابوحاتم رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں: محمد بن جحادہ نامی راوی ثقہ اور متقن راویوں میں سے ایک ہیں، یہ دین داری کے حوالے سے اہل فضل ہیں، تاہم اس راوی کے نام کے بارے میں انہیں وہم ہوا کیونکہ گھوڑا بھی ٹھوکر کھا جاتا ہے؛ انہوں نے کہا: یہ وائل بن علقمہ ہے، حالانکہ وہ علقمہ بن وائل ہے۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1862]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 401، وابن الجارود فى "المنتقى"، 225، 231، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 457، 477، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1805، 1860، 1862، 1920، 1945، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 819، وأبو داود فى (سننه) برقم: 723، 725، والترمذي فى (جامعه) برقم: 248، 249، 292،وابن ماجه فى (سننه) برقم: 810، 854،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1101، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19143» «رقم طبعة با وزير 1859»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح. * [الصَّفِّ] قال الشيخ: في الأصل: «الصلاة».
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، رجاله رجال الصحيح غير إبراهيم بن الحجاج السامي، وهو ثقة، روى له النسائي.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1862 in Urdu
علقمة بن وائل الحضرمي ← وائل بن حجر الحضرمي