یہ تکبیرات کے دن ہیں ، تکبیرات سنئیے۔
علماء کرام کے آڈیو، ویڈیو دروس ، خطبات، دورہ قرآن، تعلیم القرآن اگر آپ ٹیکسٹ کی صورت میں ٹائپ کروانا چاہتے ہوں تو رابطہ کریں۔
+92-331-5902482
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
429. باب صفة الصلاة - ذكر طمأنينة المصطفى صلى الله عليه وسلم عند رفع رأسه من الركوع
نماز کے طریقہ کا بیان - مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی طمانیت کا ذکر جب وہ رکوع سے سر اٹھاتے تھے
حدیث نمبر: 1902
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْهَمْدَانِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَشَّارٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ ثَابِتٍ الْبُنَانِيِّ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَنْعَتُ لَنَا صَلاةَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَقُومُ فَيُصَلِّي، فَإِذَا رَفَعَ رَأْسَهُ مِنَ الرُّكُوعِ، قُلْنَا: قَدْ نَسِيَ مِنْ طُولِ الْقِيَامِ" .
ثابت بنانی بیان کرتے ہیں: میں نے سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ کو سنا۔ انہوں نے ہمارے سامنے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کی کیفیت بیان کرتے ہوئے فرمایا، جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نماز ادا کر رہے ہوتے تھے، تو آپ رکوع سے جب سر اٹھاتے تھے، تو آپ کے قیام کے طوالت کی وجہ سے ہم یہ سوچتے تھے، شاید آپ (سجدے میں جانا) بھول گئے ہیں۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1902]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه البخاري فى (صحيحه) برقم: 800، 821، ومسلم فى (صحيحه) برقم: 472، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 609، 682، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1885، 1902، وأحمد فى (مسنده) برقم: 12849» «رقم طبعة با وزير 1899»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (799): ق.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرطهما.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1902 in Urdu
ثابت بن أسلم البناني ← أنس بن مالك الأنصاري