صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
459. باب صفة الصلاة - ذكر الخبر المدحض قول من زعم أن هذا الخبر تفرد به عبيد الله بن عمر
نماز کے طریقہ کا بیان - اس خبر کا ذکر جو اس دعوے کو رد کرتا ہے کہ یہ خبر صرف عبید اللہ بن عمر نے بیان کی
حدیث نمبر: 1933
أَخْبَرَنَا ابْنُ خُزَيْمَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الرَّحِيمِ الْبَرْقِيُّ ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْكُوفِيُّ ، سَكَنَ الْفُسْطَاطَ، قَالا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، أَخْبَرَنَا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُمَارَةُ بْنُ غَزِيَّةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا النَّضْرِ ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ ، يَقُولُ: قَالَتْ عَائِشَةُ : فَقَدْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَانَ مَعِي عَلَى فِرَاشِي، فَوَجَدْتُهُ سَاجِدًا، رَاصًّا عَقِبَيْهِ، مُسْتَقْبِلا بِأَطْرَافِ أَصَابِعِهِ لِلْقِبْلَةِ، فَسَمِعْتُهُ يَقُولُ: " اللَّهُمَّ إِنِّي أَعُوذُ بِرِضَاكَ مِنْ سَخَطِكَ، وَبِعَفْوِكَ مِنْ عُقُوبَتِكَ، وَبِكَ مِنْكَ أُثْنِي عَلَيْكَ، لا أَبْلُغُ كُلَّ مَا فِيكَ". فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" يَا عَائِشَةُ، أَحَرَّبَكِ شَيْطَانُكِ؟". فَقُلْتُ: مَا لِي مِنْ شَيْطَانٍ. فَقَالَ:" مَا مِنْ آدَمِيٍّ إِلا لَهُ شَيْطَانٌ". فَقُلْتُ: وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ؟ قَالَ:" وَأَنَا، وَلَكِنِّي دَعَوْتُ اللَّهَ عَلَيْهِ فَأَسْلَمَ" .
سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا بیان کرتی ہیں: (ایک مرتبہ رات کے وقت میری آنکھ کھلی) میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر موجود پایا حالانکہ پہلے آپ میرے ساتھ بستر پر موجود تھے (اندھیرے میں، میں نے آپ کو تلاش کرنے کی کوشش کی) تو میں نے آپ کو سجدے کی حالت میں پایا۔ آپ نے اپنی ایڑیاں کھڑی کی ہوئی تھیں اور اپنی انگلیوں کے کناروں کا رُخ قبلہ کی طرف کیا ہوا تھا۔ میں نے آپ کو یہ کہتے ہوئے سنا: ”اے اللہ! میں تیری ناراضگی کے مقابلے میں تیری رضا مندی کی، تیرے سزا دینے کے مقابلے میں تیری معافی کی اور تیری ذات کے مقابلے میں تیری پناہ مانگتا ہوں، میں تیری تعریف کرتا ہوں لیکن میں تیرے اندر موجود (ہر خوبی) تک نہیں پہنچ سکتا۔“ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اس سے فارغ ہوئے، تو آپ نے ارشاد فرمایا: اے عائشہ! کیا تمہارے شیطان نے تمہیں بہکانے کی کوشش کی تھی۔ میں نے عرض کی: میرا شیطان کہاں سے آ گیا؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہر انسان کے ساتھ اس کا مخصوص شیطان ہوتا ہے۔ میں نے دریافت کیا: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )! کیا آپ کے ساتھ بھی ہے؟ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میرے ساتھ بھی ہے، لیکن میں نےاللہ تعالیٰ سے اس کے لئے دعا کی تو اس نے اسلام قبول کر لیا۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1933]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1930»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (823)، «الروض النضير» (758): م - ببعض اختصار -. [تنبيه!! ] في «طبعة باوزير»: «أَوَمَعِي شَيْطَان» بدلا من «مَالِيَ شَيْطَانٍ» وكتب الألباني تعليقا على هذه اللفظه فقال: في الأصل: «من». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح على شرط مسلم، رجاله رجال الشيخين غير عمارة بن غزيَّة، فإنه من رجال مسلم، أبو النضر: هو سالم بن أبي امية المدني.
الرواة الحديث:
عروة بن الزبير الأسدي ← عائشة بنت أبي بكر الصديق