صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
471. باب صفة الصلاة - ذكر العلة التي من أجلها كان يشير المصطفى صلى الله عليه وسلم بالسبابة في الموضع الذي وصفناه
نماز کے طریقہ کا بیان - اس وجہ کا ذکر جس کی بنا پر مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے بیان کردہ مقام پر شہادت کی انگلی سے اشارہ کرتے تھے
حدیث نمبر: 1945
أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَرَ بْنِ يُوسُفَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا سَلْمُ بْنُ جُنَادَةَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ إِدْرِيسَ ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ ، قَالَ: قَدِمْنَا الْمَدِينَةَ، وَهُمْ يَنْفُضُونَ أَيْدِيَهُمْ مِنْ تَحْتِ الثِّيَابِ، فَقُلْتُ: لأَنْظُرَنَّ إِلَى صَلاةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " فَكَبَّرَ حَتَّى افْتَتَحَ الصَّلاةَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ حَتَّى رَأَيْتُ إِبْهَامَيْهِ قَرِيبًا مِنْ أُذُنَيْهِ، قَالَ: ثُمَّ أَخَذَ شِمَالَهُ بِيَمِينِهِ، فَلَمَّا رَكَعَ رَفَعَ يَدَيْهِ، فَلَمَّا رَفَعَ رَأْسَهُ قَالَ: سَمِعَ اللَّهُ لِمَنْ حَمِدَهُ، ثُمَّ كَبَّرَ، وَرَفَعَ يَدَيْهِ، ثُمَّ سَجَدَ، فَوَضَعَ رَأْسَهُ بَيْنَ يَدَيْهِ فِي الْمَوْضِعِ مِنْ وَجْهِهِ، فَلَمَّا جَلَسَ افْتَرَشَ قَدَمَيْهِ، وَوَضَعَ مِرْفَقَهُ الأَيْمَنَ عَلَى فَخِذِهِ الْيُمْنَى، وَقَبَضَ خِنْصَرَهُ وَالَّتِي تَلِيهَا، وَجَمَعَ بَيْنَ إِبْهَامِهِ وَالْوُسْطَى، وَرَفَعَ الَّتِي تَلِيهَا يَدْعُو بِهَا" .
عاصم بن کلیب اپنے والد کے حوالے سے سیدنا وائل بن حجر رضی اللہ عنہ کا یہ بیان نقل کرتے ہیں کہ ہم لوگ مدینہ منورہ آئے، تو لوگ اپنے ہاتھ اپنے کپڑوں (یعنی چادروں) کے اندر رکھے ہوئے تھے، میں نے سوچا: میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نماز کا ضرور جائزہ لوں گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی، نماز کا آغاز کیا اور رفع یدین کیا، یہاں تک کہ میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے انگوٹھوں کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے کانوں کے قریب دیکھا۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دائیں ہاتھ کے ذریعے بائیں ہاتھ کو پکڑ لیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم رکوع میں گئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے رفع یدین کیا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر اٹھایا، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے «سَمِعَ اللّٰهُ لِمَنْ حَمِدَهُ» ”اللہ نے اس کی بات سن لی جس نے اس کی تعریف کی“ پڑھا۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تکبیر کہی اور رفع یدین کیا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سجدے میں چلے گئے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنا سر دونوں ہاتھوں کے درمیان چہرے کے مد مقابل رکھا۔ جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دونوں پاؤں کو بچھا لیا اور دائیں کہنی کو دائیں زانو پر رکھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سب سے چھوٹی انگلی اور اس کے ساتھ والی انگلی کو بند کیا، اپنے انگوٹھے اور درمیانی انگلی کو اکٹھا کیا اور اس کے ساتھ والی انگلی (یعنی شہادت کی انگلی) کو بلند کیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے ہمراہ دعا پڑھی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1945]
تخریج الحدیث: از جامع خادم الحرمين الشريفين: «أخرجه مسلم فى (صحيحه) برقم: 401، وابن الجارود فى "المنتقى"، 225، 231، وابن خزيمة فى (صحيحه) برقم: 457، 477، وابن حبان فى (صحيحه) برقم: 1805، 1860، 1862، 1920، 1945، والحاكم فى (مستدركه) برقم: 819، وأبو داود فى (سننه) برقم: 723، 725، والترمذي فى (جامعه) برقم: 248، 249، 292،وابن ماجه فى (سننه) برقم: 810، 854،والدارقطني فى (سننه) برقم: 1101، وأحمد فى (مسنده) برقم: 19143» «رقم طبعة با وزير 1942»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح - «صحيح أبي داود» (717).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح.
الرواة الحديث:
Sahih Ibn Hibban Hadith 1945 in Urdu
كليب بن شهاب الجرمي ← وائل بن حجر الحضرمي