صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
490. باب صفة الصلاة - ذكر الأمر بنوع ثان من الصلاة على المصطفى صلى الله عليه وسلم إذ هما من اختلاف المباح
نماز کے طریقہ کا بیان - مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم پر دوسری قسم کی صلاۃ کے حکم کا ذکر کیونکہ یہ دونوں جائز امور میں اختلاف ہیں
حدیث نمبر: 1965
أَخْبَرَنَا عُمَرُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ سِنَانٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ مَالِكٍ ، عَنْ نُعَيْمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمُجْمِرُ ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ زَيْدٍ الأَنْصَارِيَّ أَخْبَرَهُ، عَنْ أَبِي مَسْعُودٍ الأَنْصَارِيِّ ،، أَنَّهُ قَالَ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَنَحْنُ فِي مَجْلِسِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ، فَقَالَ بَشِيرُ بْنُ سَعْدٍ: أَمَرَنَا اللَّهُ يَا رَسُولَ اللَّهِ أَنْ نُصَلِّيَ عَلَيْكَ، فَكَيْفَ نُصَلِّي عَلَيْكَ؟ قَالَ: فَسَكَتَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، حَتَّى تَمَنَّيْنَا أَنَّهُ لَمْ يَسْأَلْهُ، ثُمَّ قَالَ:" قُولُوا: اللَّهُمَّ صَلِّ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا صَلَّيْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، وَبَارِكْ عَلَى مُحَمَّدٍ، وَعَلَى آلِ مُحَمَّدٍ، كَمَا بَارَكْتَ عَلَى آلِ إِبْرَاهِيمَ، فِي الْعَالَمِينَ، إِنَّكَ حَمِيدٌ مَجِيدٌ. وَالسَّلامُ كَمَا قَدْ عَلِمْتُمْ" .
سیدنا ابومسعود انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے۔ ہم اس وقت سیدنا سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی محفل میں موجود تھے۔ سیدنا بشیر بن سعد رضی اللہ عنہ نے عرض کی: یا رسول اللہ ( صلی اللہ علیہ وسلم )!اللہ تعالیٰ نے ہمیں آپ پر درود بھیجنے کا حکم دیا ہے، تو ہم آپ پر درود کیسے بھیجیں۔ راوی بیان کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم خاموش رہے، یہاں تک کہ ہم نے یہ آرزو کی، انہوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ سوال نہ کیا ہوتا پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: تم یہ پڑھو۔ ”اے اللہ! تو سیدنا محمد پر اور سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی آل پر درود نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر درود نازل کیا، اور سیدنا محمد پر اور سیدنا محمد کی آل پر برکت نازل کر جس طرح تو نے سیدنا ابراہیم اور سیدنا ابراہیم کی آل پر تمام جہانوں میں برکت نازل کی: بے شک تو لائق حمد اور بزرگی کا مالک ہے۔“ (نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا) سلام کا طریقہ اسی طرح ہے جیسے تم جان چکے ہو۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 1965]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 1962»
الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
صحيح: م - انظر (1955). تنبيه!! رقم (1955) = (1958) من «طبعة المؤسسة». - مدخل بيانات الشاملة -.
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
إسناده صحيح، وهو مكرر (1958).
الرواة الحديث:
محمد بن عبد الله الأنصاري ← أبو مسعود الأنصاري