🏠 👥 🔍 🧩 🅰️ 📌 ↩️

الحمدللہ ! رمضان المبارک کے بابرکت مہینے میں حدیث 365 ایپ ریلیز کر دی گئی ہے۔
ان شاءاللہ اگلی کتاب مستدرک حاکم پیش کی جا رہی ہے
صحیح ابن حبان سے متعلقہ
تمام کتب
ترقيم الرسالہ
عربی
اردو
حدیث کتب میں نمبر سے حدیث تلاش کریں:

ترقیم الرسالہ سے تلاش کل احادیث (7491)
حدیث نمبر لکھیں:
حدیث میں عربي لفظ/الفاظ تلاش کریں
عربي لفظ / الفاظ لکھیں:
حدیث میں اردو لفظ/الفاظ تلاش کریں
اردو لفظ / الفاظ لکھیں:
547. فصل في القنوت - ذكر كتبة الله عز وجل جوازا من النار لمن استجار منها في عقب صلاة الغداة والمغرب سبع مرات نعوذ بالله منها
نماز میں قنوت پڑھنے کا بیان - اس بات کا ذکر کہ اللہ عز وجل صبح اور مغرب کی نماز کے بعد سات بار "نعوذ بالله منها" کہنے والے کو جہنم سے جواز دیتا ہے
اظهار التشكيل
حدیث نمبر: 2022
أَخْبَرَنَا أَبُو يَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا دَاوُدُ بْنُ رُشَيْدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ حَسَّانَ الْكِنَانِيِّ ، عَنْ مُسْلِمِ بْنِ الْحَارِثِ بْنِ مُسْلِمٍ التَّمِيمِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: بَعَثَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَرِيَّةٍ، فَلَمَّا بَلَغْنَا الْمُغَارَ، اسْتَحْثَثْتُ فَرَسِي، فَسَبَقْتُ أَصْحَابِي، فَتَلَقَّانِي الْحَيُّ بِالرَّنِينِ، فَقُلْتُ: قُولُوا: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ تُحَرَّزُوا، فَقَالُوهَا. فَلامَنِي أَصْحَابِي، وَقَالُوا: حُرِمْنَا الْغَنِيمَةَ بَعْدَ أَنْ رُدَّتْ بِأَيْدِينَا. فَلَمَّا قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَخْبَرُوهُ بِمَا صَنَعْتُ، فَدَعَانِي، فَحَسَّنَ لِي مَا صَنَعْتُ، وَقَالَ:" أَمَا إِنَّ اللَّهَ قَدْ كَتَبَ لَكَ بِكُلِّ إِنْسَانٍ مِنْهُمْ كَذَا وَكَذَا". قَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ: فَأَنَا نَسِيتُ الثَّوَابَ، قَالَ: ثُمَّ قَالَ لِي:" إِنِّي سَأَكْتُبُ لَكَ كِتَابًا، وَأُوصِي بِكَ مَنْ يَكُونُ بَعْدِي مِنْ أَئِمَّةِ الْمُسْلِمِينَ". قَالَ: فَكَتَبَ لِي كِتَابًا، وَخَتَمَ عَلَيْهِ، وَدَفَعَهُ إِلَيَّ، وَقَالَ: " إِذَا صَلَّيْتَ الْمَغْرِبَ، فَقُلْ قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمَ أَحَدًا: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّكَ إِنْ مُتَّ مِنْ لَيْلَتِكَ تِلْكَ كَتَبَ اللَّهُ لَكَ جَوَازًا مِنَ النَّارِ، وَإِذَا صَلَّيْتَ الصُّبْحَ فَقُلْ قَبْلَ أَنْ تُكَلِّمَ أَحَدًا: اللَّهُمَّ أَجِرْنِي مِنَ النَّارِ سَبْعَ مَرَّاتٍ، فَإِنَّكَ إِنْ مُتَّ مِنْ يَوْمِكَ ذَلِكَ كَتَبَ اللَّهُ لَكَ جَوَازًا مِنَ النَّارِ" . قَالَ: فَلَمَّا قَبَضَ اللَّهُ رَسُولَهُ، أَتَيْتُ أَبَا بَكْرٍ بِالْكِتَابِ، فَفَضَّهُ، فَقَرَأَهُ وَأَمَرَ لِي بِعَطَاءٍ وَخَتَمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ عُمَرَ، فَقَرَأَهُ، وَأَمَرَ لِي، وَخَتَمَ عَلَيْهِ، ثُمَّ أَتَيْتُ بِهِ عُثْمَانَ، فَفَعَلَ مِثْلَ ذَلِكَ. قَالَ مُسْلِمُ بْنُ الْحَارِثِ: تُوُفِّيَ الْحَارِثُ بْنُ مُسْلِمٍ فِي خِلافَةِ عُثْمَانَ، وَتَرَكَ الْكِتَابَ عِنْدَنَا، فَلَمْ يَزَلْ عِنْدَنَا حَتَّى كَتَبَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ إِلَى الْوَالِي بِبَلَدِنَا يَأْمُرُهُ بِإِشْخَاصِي إِلَيْهِ وَالْكِتَابَ، فَقَدِمْتُ عَلَيْهِ، فَفَضَّهُ، وَأَمَرَ لِي، وَخَتَمَ عَلَيْهِ، وَقَالَ: أَمَا إِنِّي لَوْ شِئْتُ أَنْ يَأْتِيَكَ ذَلِكَ وَأَنْتَ فِي مَنْزِلِكَ فَعَلْتُ، وَلَكِنْ أَحْبَبْتُ أَنْ تُحَدِّثَنِي بِالْحَدِيثِ عَلَى وَجْهِهِ. قَالَ: فَحَدَّثْتُهُ.
مسلم بن حارث اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں ایک مہم پر روانہ کیا جب ہم مطلوبہ مقام کے قریب پہنچے، تو میں نے اپنے گھوڑے کو ایڑ لگائی اور اپنے ساتھیوں سے آگے نکل گیا۔ رنین کے مقام پر ایک قبیلے سے میرا سامنا ہوا۔ میں نے کہا: تم لوگ «لا الہ الا اللہ» پڑھ لو تم لوگ محفوظ رہو گے۔ ان لوگوں نے یہ کلمہ پڑھ لیا میرے ساتھیوں نے مجھے ملامت کی اور کہا: ہم لوگ مال غنیمت سے محروم رہ گئے ہیں۔ اور یہ ہمارے ہاتھ آتے رہ گیا، پھر ہم نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے میرے ساتھیوں نے آپ کو میرے طرز عمل کے بارے میں بتایا: تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے بلوایا اور میرے اس عمل پر تحسین کا اظہار کیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: بے شکاللہ تعالیٰ ان لوگوں میں سے ہر ایک انسان کے عوض میں تمہارے لئے اتنا اجر نوٹ کر لے گا۔ عبدالرحمن نامی راوی بیان کرتے ہیں: وہ ثواب میں بھول گیا ہوں۔ راوی بیان کرتے ہیں: نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے فرمایا میں تمہارے لئے ایک تحریر لکھواؤں گا اور (اس تحریر میں) میں اپنے بعد آنے والے مسلمانوں کے حکمران کو تمہارے بارے میں عطیات دینے کی ہدایت کروں گا)۔ میں تمہیں اس بات کی تلقین کروں گا، میرے بعد مسلمانوں کے حکمران کون لوگ ہوں گے۔ راوی بیان کرتے ہیں: پھر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے میرے لئے ایک تحریر لکھوائی۔ اس پر مہر لگوائی اور اسے میرے سپرد کر دیا۔ آپ نے ارشاد فرمایا: جب تم مغرب کی نماز ادا کر لو تو کسی کے ساتھ بات چیت کرنے سے پہلے سات مرتبہ یہ کلمہ پڑھو۔ اے اللہ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا کر۔ اگر تم اسی رات میں فوت ہو جاتے ہو، تواللہ تعالیٰ تمہارے لئے جہنم سے آزادی کو نوٹ کر لے گا اور جب تم صبح کی نماز پڑھ لو تو کسی کے ساتھ بات چیت کرنے سے پہلے سات مرتبہ یہ کلمہ پڑھ لو۔ اے اللہ! تو مجھے جہنم سے نجات عطا کر۔ اگر تم اس دن میں فوت ہو جاتے ہو، تواللہ تعالیٰ تمہارے لئے آگ سے آزادی کو نوٹ کر لے گا۔ راوی بیان کرتے ہیں: جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کا وصال ہو گیا تو میں وہ تحریر لے کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوا۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اس مہر کو توڑا اور اس مکتوب کو پڑھا پھر انہوں نے مجھے ادائیگی کا حکم دیا اور اس پر مہر لگا دی پھر میں سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کے پاس (ان کے عہد خلافت میں) آیا انہوں نے اس کو پڑھا اور میرے لئے ادائیگی کا حکم دیا۔ انہوں نے بھی اس پر مہر لگا دی پھر میں اسے لے کر سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے پاس آیا، تو انہوں نے بھی ایسا ہی کیا۔ مسلم بن حارث نامی راوی بیان کرتے ہیں: سیدنا حارث بن مسلم رضی اللہ عنہ کا انتقال سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے عہد خلافت میں ہوا تھا۔ وہ تحریر ہمارے پاس موجود رہی، یہاں تک کہ عمر بن عبدالعزیز نے ہمارے علاقے کے گورنر کو خط لکھ کر اسے حکم دیا، وہ مجھے اور اس تحریر کو عمر بن عبدالعزیز کی خدمت میں پیش کرے میں عمر بن عبدالعزیز کے پاس آیا۔ انہوں نے اس مہر کو توڑا میرے لئے ادائیگی کا حکم دیا اور پھر اس پر مہر لگا دی۔ پھر ارشاد فرمایا: میں چاہتا تو یہ سب کچھ تمہارے پاس تمہارے گھر میں پہنچ سکتا تھا لیکن میں یہ چاہتا تھا، تم مجھے یہ حدیث بیان کرو۔ راوی کہتے ہیں: میں نے انہیں یہ حدیث سنائی۔ [صحیح ابن حبان/كتاب الصلاة/حدیث: 2022]
تخریج الحدیث: «رقم طبعة با وزير 2019»

الحكم على الحديث:
فضيلة الشيخ الإمام محمد ناصر الدين الألباني
ضعيف - «الضعيفة» (1624).
فضيلة الشيخ العلّامة شُعيب الأرناؤوط
مسلم بن الحارث – ويقال: الحارث بن مسلم، وهو الأصح كما سيأتي: لم يوثقه غير المؤلف 5/ 391، ولا يعرف بغير هذا الحديث، وقال الدارقطني: مجهول، وباقي رجاله ثقات، وَمَالَ الحافظ في «التهذيب» إلى تضعيفه، إلا أَنَّ ابن علان في «التفوحات الربانية» نقل عنه قوله: حديث حسن.

الرواة الحديث:
اسم الشهرة
الرتبة عند ابن حجر/ذهبي
أحاديث
👤←👥مسلم بن الحارث التميمي، أبو الحارثصحابي
👤←👥مسلم بن الحارث التميمي
Newمسلم بن الحارث التميمي ← مسلم بن الحارث التميمي
مختلف في صحبته
👤←👥عبد الرحمن بن حسان الكناني، أبو سعيد
Newعبد الرحمن بن حسان الكناني ← مسلم بن الحارث التميمي
صدوق حسن الحديث
👤←👥الوليد بن مسلم القرشي، أبو العباس
Newالوليد بن مسلم القرشي ← عبد الرحمن بن حسان الكناني
ثقة
👤←👥داود بن رشيد الهاشمي، أبو الفضل
Newداود بن رشيد الهاشمي ← الوليد بن مسلم القرشي
ثقة
👤←👥أبو يعلى الموصلي، أبو يعلى
Newأبو يعلى الموصلي ← داود بن رشيد الهاشمي
ثقة مأمون